تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 623 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 623

۶۰۸ حضرت بھائی صاحب مرحوم کو بہت سی خصوصیات حاصل تھیں۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھ مذہب سے نکال کر اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔دوسرے یہ کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو شناخت کرنے اور احمدیت قبول کرنے کی سعادت بھی پائی۔تیسرے یہ کہ نہ صرف اسلام اور احمدیت کو قبول کیا : بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی لی محبت کا موقعہ میسر آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کا قرب نصیب ہوا۔چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم اور عمل کی نعمت سے بھی نوازا۔اور ان کے ذریعہ بہت سے نوجوانوں نے دینی علم حاصل کرنے اور تقویمی پر قائم ہونے کی سعادت پائی۔پانچویں یہ کہ حضرت بھائی صاحب صاحب الہام رکشوت بھی تھے۔اور دعا کی تحریک پر ان پر عموما امد تعالی کی طرف سے بہت جلد انکشاف ہو جایا کرتا تھا پھر یہ کہ خلافت ثانیہ کا بھی لمبا دور پایا۔اور بال آخر قادیان میں کئی سال تک درویشی کی زندگی بھی نصیب ہوئی۔اور آخر میں اللہ تعالیٰ انہیں وفات کے قریب ربوہ لے آیا۔اور ایسا اتفاق ہوا کہ جنازہ کے وقت حضرت خلیفہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ربوہ میں موجود تھے۔اور حضور نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔اور حضرت بھائی صاحب مقبرہ بہشتی کے قطعہ خاص میں دفن کیے گئے۔یہ سب خصوصیات غیر معمولی رنگ رکھتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی مشفقانہ نعمت اور خاص ذرہ نوازی کی دلیل ہے۔کہ سکھ مذہب سے نکال کر کہاں کہاں تک پہنچا دیا اس سعادت بروز باز و نیست تانه بخشد خدائے بخشنده حضرت بھائی صاحب مرحوم ۱۸۹ء میں مسلمان ہو کہ قادیان آئے تھے اور اس وقت ان کی عمر غالباً ۲۱ سال کی تھی جب خدا تعالے نے دل میں اسلام کی چنگاری پیدا کی۔تو تو جی ملازمت چھوڑ کر حصرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے قدموں میں پہنچ گئے اور حضرت خلیفہ المسیح اول۔۔۔۔۔۔نے انہیں اپنی شاگردی سے نوازا۔گزشتہ ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے پرانے رفیق خاص اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خاص کارکن بڑی سرعت کے ساتھ فوت ہوئے ہیں اس کے نتیجہ میں طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔کہ ان بزرگوں کی جگہ لینے کے لیے احمدیت کا نوجوان طبقہ آگے آنے کے لیے کیا کوشش کر رہا ہے۔اور ترقی کرنے والی قوموں کا یہ قاعدہ ہے۔کہ وہ ہمیشہ صف اول کے ساتھ ساتھ صحت روم کا بھی انتظام رکھا کہ تی