تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 622
4۔6 ناظر تعلیم و تربیت کے عہدہ پر ممتاز رہے۔قادیان میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔صاحبزادہ مرزا ہیم احمد صاحب نے آپ سے کتب احادیث ، طب اور فارسی پڑھی یہ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب حیث فاضل امیر جماعت قادیان کی رحمت یا غیر موجودگی میں قائمقام ناظر اعلی اور امیر مقامی بھی آپ ہی ہوتے تھے۔جولائی ۱۹۵۲ء میں آپ قادیان سے آگئے اور تارقات ربوہ میں مقیم رہے۔حضرت بھائی جی سلسلہ کی ہر قسم کی تحریکات میں پہرہ خوش حصہ لیتے اور چند د جات باقاعدہ اور با شرح ادا فرماتے آپ کی وصیت پڑا کی تھی۔صاحب رڈیا رکشون والہام تھے اور مستجاب الدعوات تھے کئی دفعہ ایسا ہوا کہ دھر آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ملی اُدھر وہ بات پوری ہوگئی بعض اوقات آپ کی قبولیت دعا کا فوری اثر نمایاں ہوتا اور دعاختم کرتے ہی اس کی مقبولیت کے آثار پیدا ہو جاتے عبادت نہایت خشوع و خضوع اور حضور قلب سے کرتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ گو یا آپ اس دنیا میں نہیں ہیں۔عزباء اور مساکین کا خاص خیال رکھتے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے حساب دیا اور آپ نے بھی اسے خدا۔کی راہ میں اس کی خوشنودی کے لیے بے دریغ خرچ کیا۔آپ نہایت منکسر المزاج اور بے نفس اور یکرنگ بزرگ تھے۔ہمیشہ نگاہیں نیچی رکھتے۔گوشہ تنہائی کو بہت پسند فرماتے اور دربار شہرت سے کوسوں دور بھا گئے سالانہ جلسہ پہ آپ کو سیٹھی ٹکٹ دیا جاتا مگر آپ بالعموم دوسرے حاضرین میں بیٹھے رہتے۔خاندان حضرت مسیح موعود کے جملہ افراد کا ان عدا حترام کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کیک کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہم سب پہ اتنے احسانات ہیں کہ ہم ساری عمر اس خاندان کی خدمت کرتے رہیں تو خدمت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔آپ تو کل کے بلند مقام پہ تھے۔آپ کی ضروریات کا انتظام معجزانہ طور پر خدا تعالیٰ فرما دیتا تھا۔آپ نے دھرم سالہ قادیان اور ربوہ میں مکانات تعمیر کرائے جو آپ کے مقام تو کل کی واضح مثال ہے۔حضرت صاحبزادہ مرتہ البشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا : را چوہدری عبد القدید ما در دیش قادریان کو آپ کا ترجمہ قرآن پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔نا له الفضل ۲۵ جولا ئی ۱۹۵۷ دمت و مضمون چو ہدری عبد القدیر صاحب در رویش نادریان مطبوعه بدر)