تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 619
1+M بھی مہربانی مجھ پہ کی کہ اس نعمت سے محروم کرنے ہیں وہ اسلام کی طرف زیادہ دھکا دینے کا موجب ہو گئے دو پر کر دھنو کے بعد کچھ پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی۔رڈیا میں ایسا دیکھا کہ میں اندھا ہوگیا ہوں حضرت مرزا صاحب کی طرف خط لکھ کر تعبیر معلوم کی۔تو آپ نے فرمایا کہ دینی صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔بہت بہت استغفار کردو۔چنانچہ سکھوں نے رپورٹ کر کے درس قرآن سے محروم کر دیا۔اور یہی نور آنکھوں سے اوجھیل ہوگی۔رسالہ میں واپس از رخصت ہونے پر میں نے چوری چوری نمازیں بھی ادا کرنی شروع کیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ بھی دریافت کیا کہ میں اگر ایسی حالت میں رہوں اور اسلامی شعار حتی المقدور ادا کرتا رہ ہوں (ان دنوں ترقی دنیادی ذر امعراج پر تھی) تو نجات ہو سکے گی کہ نہیں اس کا جواب مجھ کو یہ ملا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے جسم اور فضل سے وہ دنیا و می ترقی کے خیالات میرے دل سے نکال لیے اور چند دنوں کے بعد جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے روزے رکھنے شروع کر دیئے۔ہیرے مہربانوں کو جب معلوم ہوا تو ایک شور بر پا ہوگیا اورسردار ٹرپ نے آنکھیں لال پیلی نکالنی شروع کیں دھمکیاں دیں حکومت کا زور دکھایا اور کرنل صاحب بہادر رسالہ کو بہت کچھ اکسایا۔آخر تنگ ہونے پر میں نے استعفاء دے دیا۔اور سیدھا قادیان کا ٹکٹ ریعنی بٹالہ تک کام فوراً ہی لینا پسند کیا۔میرے دوست سردار فضل حق صاحب نے کہا لیکھرام سیا لکوٹ میں آیا ہے وہ لیکچر دے گا آج رات بھر جائیں۔لیکن حضرت مسیح موعود عليه الصلاة والسلام کی کشش نے اُس طرف رخ کرنے سے بھی بالکل ہی روک دیا۔اور محض حقیقی مولی کے کریم سے ۸ مارچ ۱۸۹۵ء کو میں جب کہ روزوں کا مہینہ تھا قادیان میں وارد ہوا۔حضرت اقدس نے مجھے حضرت خلیفہ اول۔۔۔۔۔۔۔کے سپرد کیا۔کھانے اور تربیت روحانی اور تسلیم کی نگرانی کے لیے تاکید کرتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کر کے ہر طرح خیال رکھنے کا بھی مسکم دیا۔حضرت خلیفہ اول نے آپ کے ارشاد کی کماحقہ ، رعایت کی۔اور میری تربیت اور تعلیم کا جتنا مکن مقا خیال رکھا۔کوئی کوئی باپ ہوتا ہے۔جو ایسا خیال رکھتا ہے۔جزاه الله خيرا فى حالة الدنيا والآخرة - میرے رشتہ داروں نے جب میرے مسلمان ہو جانے کی خبر سنی تو چارہ پانچ رشتہ دار خمر، تایا اور دوسرے اشخاص قادیان میں آدھمکے۔حضرت مولوی صاحب نے احتیاط کے خیال سے مجھے بھائی خیر الدین صاحب