تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 616 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 616

۶۰۱ بن گئے۔آپ نے ہی مجھے اسلام کی موٹی موٹی خوبیاں بتائیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پتہ بھی آپ ہی سے مجھکو ملا۔ابتداء میں میں نے سردار صاحب کی مخالفت کی۔اور اس خیال پر کہ سہارے مار سبب میں بھی بزرگ گزرے ہیں۔کیا ضرورت ہے۔کہ ہم دوسرے مذہبوں کے خوشہ چین بنیں۔ہاں اب اگر کوئی انسان اسلام میں خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہوتا ہو۔کچھ اس کے معجزات کرامات ہوں۔تو بیشک قابل انتباع ہو سکتا ہے۔اور ایک شخص کی اطاعت میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول یقینی ہے اس پر انہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پورا حال بھی بتایا۔اور قادیان کا راستہ وغیرہ بھی بنایا۔چنانچہ رسالہ میں جب میری رخصت کا وقت آیا تو میں پہلے سیدھا نا دیان پہنچا۔یہی ۶۹۴ کا زمانہ تھا۔یک یہاں چند ایام رہا۔اور رو کر دعا مانگ کہ بیعت کی نعمت سے بفضلہ تعالی مشرف حاصل کر لیا۔بیعت کرنے کے بعد میں نے اپنے گاوں میں ہ ماہ کے قریب ایام رخصت بسر کیے۔ساری نمازہ یاد کی اور پڑھنے کا راز بھی معلوم لیا۔مھم کے نہ مرنے پہ جبکہ میں گاؤں میں تھا۔ہیڈ ماسٹر سکول نے مجھ پر اعتراض کیسے۔گر قادیان سے مجھ کو آٹھم کے متعلق کافی اطلاع بذریعہ اشتہار بھیج دی گئی۔جس سے میں ہیڈ ما سٹر صاحب سے گفتگو کرنے کے قابل ہو گیا۔یہ نہیں معلوم کہ یہاں کے ہندوؤں نے یا کس نے دیاں اطلاع بھیج دی۔کہ یہ شخص مسلمان جو رہا ہے۔سال میں جاکر قریبا نماز کا پابند را در مولوی عبد الکریم صاحب کا پتہ قادیان سے دریافت کر کے سیالکوٹ شہر میں پھر پھرا کر نکال لیا۔آپ سے درس قرآن کچھ دنوں ستا۔گھر سکھوں کو جب پسند لگ گیا۔تو انہوں نے سردار کو اکسا کر اس نعمت سے محروم کر دیا۔دوپہر کے وقت یعنی اس نعمت سے محروم ہونے کے چند روز پہلے میں نے ایک رڈیا دیکھیں کہ میں اندھا ہو گیا ہوں۔گھبراہٹ کی مدینہ رہی۔جب میں بر خیال کرر ہا معتنا ، کہ اب ساری عمر دیواروں سے تحریں کھا کر گزرے گی۔سخت اضطراب کے بعد جب آنکھ کھلی۔تو جوانی کی نیند مشکل آنکھیں کھیں اور کچھ دل کو ڈھارس ہوئی۔کہ پورا اندھا ت نہیں ہوا۔پھر جب پورا تیر ہوا " تو اس کو خواب سمجھ کر نہیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کی تعبیر خط لکھ کر دریافت کی۔کارڈ میں جوابا یوں تحر یہ تھا کہ تم کو دینی صدمہ پہنچے گا۔تو یہ استغفار خوب اچھی طرح کرنا چاہیئے۔وہ اندھی ہونا قرآن کریم کے درس سے گویا محروم ہونا تھا۔ہو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سمجھا دیا تھا۔رمضان کا مہینہ بڑا اہی مبارک مہینہ آیا۔حبس میں میں نے روز سے رکھنے شروع کیے۔مگر سکھوں میں اس سے ایسی کھلبلی پڑ گئی۔کہ انہوں نے سارا زور لگا کر مجھکو مجبور کیا کہ میں استعفیٰ دیدوں۔جولہ تعالیٰ ابخوشی استعفے دیدیا۔اور سیدھا