تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 604
DAY برات آکر وکالت کا کام شروع کیا تھا تو چوہدری صاحب نے مجھے فرمایا کہ میں اب بوڑھا اور کمزور ہو چکا ہوں مجھے بے حد خوشی ہے کہ تم آگئے ہو اسلئے میں چاہتا ہوں کہ جماعت گجرات کی امارت کی ذمہ داری تم سنبھال لو ان کی وفات سے چند دن پہلے جب میں مع برادرم محترم حضرت را به مسل محمد صاحب اور سید فخرالاسلام صاحب چوہدری صاحب کی خدمت میں عیادت کے لیے حاضر ہوا تو چوہدری صاحب نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا اور میرا ہا تھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے باچشم پہ تم دیر تک دعائیں دیتے رہے اور فرما با سید نا حضرت مسلح موجود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کے موقع پر تمہیں جس تعریف سے نوازا ہے تم خدا کے فضل سے فی الواقع اس تعریف اور خطاب کے اہل ہو۔خاکسار کے مضمون بجواب چیمہ صاحب کا دیہ تک ذکر فرماتے رہے اور دعائیں دیتے رہے۔سید فخر الاسلام صاحب چوہدری صاحب کے جوانی کے زمانہ کے دوست تھے۔اور دراصل انہیں کے ذریعہ چو ہدری صاحب کو قبول احمدیت کی سعادت حاصل ہوئی تھی ان سے بے حد تپاک اور محبت سے ملے اور دیر تک جوانی کے زمانہ کی باتیں ان سے کہتے رہے۔یہ میری ان کی آخر میں ملاقات تھی اور مجھے قطعاً امید نہ تھی کہ وہ اس قدر جلد ہم سے رخصت ہو کر اپنے حقیقی مولی کے پاس چلے جائیں گے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ چوہدری صاحب بلا شبہ احمدیت کے بڑے آدمیوں میں سے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے عشق میں گدانہ اور شمع احمدیت کے پروانے تھے۔اگر چہ ۱۹۵۱ء سے لے کر وفات تک عدالت کے کام سے کنارہ کش ہو چکے تھے اور علالت کے باعث اکثر وقت گھر کے اندر ہی رہے لیکن اس چھ سالہ علالت کے دور کو بھی انہوں نے علمی کاوشوں اور سلسلہ کی قلمی خدمتوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔اس عرصہ میں متعدد بلند پایہ علمی مضامین ان کے قلم سے نکلے جو " الفرقان میں شائع ہوتے رہے ہیں۔اور ایک مضمون اُن کے وفات کے بعد شائع ہوا ہے۔چودھری صاحب موصوف اللہ تعالیٰ کے فضل سے صاحب کشون والعامات به روزنامه الفضل به بره ۲۳ جولائی ۱۱۹۵۷ - ۲۳ ردنا ۱۳ مرد