تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 603
۵۸۸ راحت و مسرت محسوس کرتے تھے۔اور جب تک ان کی صحت نے اجازت دی یہاں تک کہ اپنے رفات کے تھوڑا عرصہ پہلے تک بیت احمد یہ گجرات میں قرآن مجید کا درس دیتے رہے۔چو ہدری صاحب نہایت سنجیدہ مزاج اور منین طبع تھے۔آپ کی طبیعت پر علم اور بردباری کا غلبہ تھا۔زندگی کے تمام شعبوں دینی اور روحانی امور کے بارے میں نہایت پچند رائے کے مانگ مھتے۔اور اپنی رائے کا اظہار بے ردد رعایت کر نے میں ہر گنہ کوئی باک محسوس نہ کر تے تھے۔وکالت کے پلینڈ میں دیانتداری آپ کا حکم اصول تھا۔اہل مقدمات کو ہمیشہ صحیح رائے دیتے تھے نہیں فریق کا مقدمہ کر دور ہو تا اُسے نہ صرف صاف لفظوں میں اپنی رائے سے مطلع کرتے بلکہ ایسا مقدمہ لینے سے انکار کر دیتے۔ب اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی فریق نے آپ کی رائے پر عمل کرتے ہوئے مقدمہ آپ کے سپرد کیا اگر نتیجہ خلاف توقع نکلا تو چو ہدری صاحب نے بھول کر دہ نہیں واپس کر دی۔چوہدری صاحب کے اعلیٰ اور قابل تقلید نمونہ کے باعث ہر کس وناکس مخالف و موافق آپ کا ثناخواں اور آپ کو انتہائی ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔آپ ایک بے ضرر انسان تھے اور تنازعات سے حتی الامکان کنارہ کش رہتے تھے۔سادہ طبیعت سادہ وضع۔اور سادہ کردار تھے۔احکام شریعت کے پابند اور تقویٰ و طہارت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ایک کامیاب وکیل ہوتے اور جماعتی زمہ داریوں کے باوجود عزلت نشیں تھے۔صبح کی لی سیر جو عموما تین چار میل کی ہوتی تھی۔آپ کی زندگی کا جزو بن چکی تھی۔جسے آپ بجز جسمانی معذوری کے کبھی ترک نہ کرتے تھے۔آپ کی اصابت رائے مسلم مفتی۔دینی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ دن رات کا مشغلہ تھا اور اس لحاظ سے ان کا کتب خانہ عمدہ عمدہ کتابوں پر مشتمل تھا۔۱۹۲۸ء تک رجب کہ میں گورنمنٹ انٹر میڈیٹ کا ربع گجرات سے العت۔اسے پاس کر کے گورنٹ کالج لاہور میں بی اے کلاس میں داخل ہوا) میرا ابتدائی زمانہ طالب علمی گجرات میں گزرا۔ان ایام میں چوہدری۔صاحب جماعت گجرات کے امیر تھے۔آپ خاکسار کی تبلیغی سرگرمیوں اور دینی علوم میں شعف کی بے حد حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ۱۹۲۶ء میں جب کہ میری عمر صرف 14 سال کی تھی اور میٹرک میں تعلیم پاتا تھا ایک مناظرہ میں رجس میں دوسری طرف سے ایک سیالکوٹی غیر احمدی مولوی صاحب مناظر تھے ) خاکسار کو جماعت احمدیہ کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا اور مناظرہ کی کامیابی پر اس قدر خوش تھے کہ ایک لمبے عرصے تک تعریف میں رطب اللسان رہے۔جب میں نے تکمیل تعلیم کے بعد واپس