تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 602 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 602

DAL ہیں۔حضرت چو ہدری صاحب نے جون ۱۹۲۹ ء میں قبول احمدیت کے حالات تحریر فرمائے جو درج ذیل کیے جاتے یک اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی میں ٹیچر تھا وہاں ایک احمدی کتب فروش تھا اس سے کتابیں لیکر پڑھیں۔ان دونوں مذہب کی طرف پیر می توجہ نہ تختی ایک مضمون درباره حقیقت نماز پڑھا۔اس کے پڑھنے سے مجھ پر خاص الر ہوا۔اس کے بعد پھر اور رسائل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔پھر میں سکول کی نوکری چھوڑ کر کو ہاٹ چلا گیا۔وہاں میں نے کتابیں پڑھیں اور اختیارات کا بھی مطالعہ کیا پھر میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ میں خود قادیان جا کہ دیکھوں۔میں نے نئے مہمان خانہ میں جو اس وقت ابھی بناہی تھا اکیلے حضرت اقدس کی بیعت کی۔اس وقت حافظ غلام رسول صاحب وزیہ آبادی بیلی موجود تھے۔حضرت اقدس نے مجھے ایک کتاب مواہب الرحمن" بطور تحفه وی (ایضاً ۶۶) خالد احمدیت ملک عبد الرحمن صاحب خادم نے آپ کی وفات پر ایک مفصل مضمون لکھاجس میں بتایا کہ:۔چو ہدری صاحب مرحوم و مغفور مضلع گجرات کے چوٹی کے دیوانی وکلاء میں سے تھے۔اور اس زمانہ میں حیب که دیوانی وکالت پر ہر طرت مند رو کلا رہی چھائے ہوئے تھے عام طور پر سمجھا جانے لگا تھا کہ شاید دیوانی وکالت مسلمانوں کے بس کا روگ نہیں ہے۔چوہدری صاحب مرحوم نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی قابلیت کے نتیجہ میں محنت شاقہ کے باعث دیوانی وکالت میں نام پیدا کیا اور جب تک یہ کام کرتے رہے مخالف یا موافق حلقوں میں عظمت کی نگاہوں سے دیکھے گئے۔آپ ایک بلند پایہ قانون دان ہونے کے علاوہ اپنی علوم میں بھی دسترس رکھتے تھے عربی اور فارسی دونوں نہ بانوں کے عالم تھے۔۱۸۹۸ ء میں منشی فاضل کا امتحان پاس کیا تھا۔فارسی کے قدیم اور جدیار لٹریچر پر کامل عبور حاصل تھا۔ایران کے ایک فارسی روز نامہ کے خریدار تھے اور اسے اس لیے بالالتزام زیر مطالعہ یہ کھتے تھے کہ جدید فارسی علم کلام سے پوری طرح بہرہ ور ہوسکیں۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شہرہ آفاق تصنیف اسلامی اصول کی فلاسفی کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا جو تاحال شارح نہیں ہوا۔چو ہدری صاحب ایک منتقی انسان تھے قرآن مجید کے عاشق تھے اور قرآن مجید پر تدبیر کر نے اور اس کے نئے نئے نکات معرف سے نکالنے میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔قرآن مجید کے درس و تدریس میں قلبی