تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 599 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 599

۵۸۴ تعالی انہیں غریق رحمت کرے اور ان کی اولاد میں سے جو حصہ بھٹک گیا ہے اسے راہ راست پر لائے اور بقیہ اولا د کا حافظ و ناصر ہو اور دین و دنیا میں ترقی عطا کرے ان کے جو بیچے پاکستان میں ہیں انہیں آپ تحریک کرتے رہیں کہ وہ مرکز کے ساتھ اپنا تعلق ضرور قائم رکھیں اور حضرت صاحب کو دعا کے لیے خطوط لکھتے رہیں میں نے سُنا ہے کہ ان کے بیوی بچوں کو جے پور سے لانے کے لیے شیخ عبدالحمید صاحب کا ایک لڑکا روانہ ہو گیا ہے اور تجویز سے کہ یا تو وہ قادیان میں آباد ہو جائیں گے یا پاکستان آجائیں گے۔قادیان میں آباد ہونے کی صورت میں آپ انہیں نصیحت فرما دیں کہ وہاں کے نظم و ضبط کا خاص خیال رکھیں کیونکہ خلافت سے دوری کی بناء پر ہمیں وہاں زیادہ چوکس نظم وضبط رکھنا پڑ تا ہے۔جسے بعض جلد باز طبیعتیں برداشت نہیں کرتیں۔آپ نے اپنے دو بچوں کے متعلق دعا کے لیے لکھا ہے۔آپ خدا کے فضل سے بہت مخلص ہیں۔اور آپ کی اہلیہ محترمہ بھی بہت مخلص ہیں اور پھر آل رسول بھی اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو دین و دنیا کے امتحانوں میں علی کامیابی عطا کرے اور آپ کے لیے اور جماعت کے لیے قرۃ العین بنائے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کی مالی مشکلات کے دور ہونے کا رستہ بھی کھول دے۔آمین۔فقط والسلام 4 (مرزا بشیر احمد) حضرت ماسٹر خیر الدین صاحب ریٹائرڈ پی۔ای۔ایں دلارت ۶۱۸۸۷ بیت ۱۹۰۵ء - وفات ا ر ا پریل ۱۹۵۷ء) آپ فرماتے ہیں:۔میں علی گڑھ میںانٹر میڈیٹ کا طالب علم تھا۔وہاں موسم گرما کی تعطیلات غالباہ اور جولائی سے ہوا کہ تی تھیں۔میرے ساتھ میرے ہم جماعت گل محمد صاحب رہتاس کے رہنے والے تھے۔اس وقت لنگرخانہ۔مدرسہ احمدیہ والی جگہ پہ تھا۔اور اس میں باورچی غلام حسین رہتاسی تھے۔جو گل محمد صاحب کے واقف تھے ہم دونوں ان کے پاس لنگر خانہ میں ٹھہرے۔مولوی محمد علی صاحب ایم اے اس وقت ایڈیٹر یویو آف ریلیجنز تھے۔اور بیت المبارک کے ساتھ والے حجرے میں اپنا کام کرتے تھے۔ایک دو یوم معسیم ن الفضل یکم مئی ۱۹۵۷ و مت