تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 600
DAD رہنے کے بعد ان سےدرخواست کی کہ ہم دونوں حضرت اقدس کی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔مولوی صاحب نے رمایا کہ کچھ یوم اور ٹھہریے۔جس پر ہم لوگ مزید ایک دو دن ٹھہر گئے۔اور پھر مولوی صاحب سے پر درخواست کی اس پر مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو لکھا۔حضور اس پر آمدہ میں تشریف لائے جو بیت المبارک کی لکڑی کی سیڑھی کے پاس تھا۔اور وہیں پر ہم دونوں کی بیعت لی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی وہاں آ گئے اور حیب بیعت کے بعد دعا ہونے لگی توحضرت اقدس کے دریافت کرنے پہ مولوی صاحب نے فرمایا کہ منور ان کے لیے خاص دعا کی جائے یا سٹہ حضرت ماسٹر صاحب بچپن ہی سے نہایت ذہین تھے۔مڈل دمیٹرک سے لے کر یو نیورسٹی کی تعلیم تک آپ نے وظیفہ حاصل کیا بعد ازاں صوبہ سی پی یراہ میں سائنس ٹیچر کی حیثیت سے آپ کا تقرر گورنمنٹ ہائی سکول امراد تی میں ہوا کام صوبہ میں آپ اس وقت غالباً تنہا احمدی تھے اس لیے مخالفت کی وجہ سے آپ کی ترقی رک گئی آپ نے حضرت مسیح موعود کی خدمت اقدس میں درخواست دعا کے خطوط لکھے آپ کو خواب میں حضرت مسیح موعود نے بشارت دی کہ ترقی ہوگی اور مزور ہو گی چنانچہ اس کے بعد ترقی ہوتی چلی گئی اور آپ بالا گھاٹ میں ہیڈ ماسٹر مقرر کیے گئے یہاں ہندوؤں کا بہت زور تھا مگر خدا کے فضل سے آپ کو نہایت عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا اس کے بعد گورنمنٹ نارمل ہائی سکول امراد تی میں جب آپ ہیڈ ماسٹر اور سپر نٹنڈنٹ کی حیثیت سے متعین کیے گئے تو مخالفین احمدیت کا ایک دند ڈائریکٹر صاحب ناگپور کو لا کہ یہ شخص احمدی ہے۔اپنے مذہب کا سکول میں چرچا کرے گا اور لڑکوں کو زبردستی اپنے مذہب میں داخل کر ے گا۔اس لیے اسے موجودہ عہدہ سے ہٹا دیا جائے" لیکن ڈائر یکٹر صاحب نے جواب دیا کہ مسٹر خیر الدین جیسا راستباز ، دیانت دار، نیک محنتی اور بلند اخلاق آدمی مجھے تمام کہ سی پی برار میں نہیں ملا۔وہ آج کا احمدی نہیں ہے بلکہ شروع ملازمت سے احمدی ہے۔آپ مخالفتوں کے ہجوم میں بھی فریضہ دعوت الی اللہ کو نظر انداز نہیں کرتے تھے۔قادیان سے لٹریچر منگوا کر صوبہ برار میں تقسیم کرتے ، جلسہ سیرت النبی کا انتظام کراتے ، صوبہ سے گزرنے والے مبلغین سلسلہ سے تقریریں کراتے ، حضرت مسیح موعود کی دعاؤں اور اشعار فریم کروا کر کمروں میں شکا به روزنامه " الفضل " ریوه مورخه ۲۴ مئی ۱۹۵۷ رمت