تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 598
۵۸۳ ڈاکٹر محمد عمر صاحب لکھنوی پی۔ایم۔ایسی مقیم جے پور ربیت ۱۹۰۵ ء وفات ۶ ار مارچ ۶۱۹۵۷ آپ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی اہیں پاس کیا۔پھر آپ یو پی گورنمنٹ کی پراونشل میڈیکل سروس (کلاس ون) میں لے لیے گئے۔اس دوران میں کئی سال تک میڈیکل کا لج لکھنو میں ریڈیالو حسیٹ (RADIOLOGIST) کی حیثیت سے طبی خدمات بجالاتے رہے۔نیز یوپی کے مختلف ضلعوں میں سول سرجن کی حیثیت سے اپنے مفوضنہ فرائض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا۔نہایت پر جوش اور مخلص احمدی تھے برصغیر پاک وہند کے نامور ادیب جناب شوکت تھانوی صاحب نے اپنی کتاب مابدولت، صفحہ 4 اپر اُن کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح اُن کی تحریک پر پنجاب گئے قادیان کی پہلی زیارت کی اور امرتسر میں حضرت مصلح موعود سے طلاقات کا شرف حاصل کیا۔۱۹۳۹ ء میں فیشن لینے کے بعد سے آپ جے پور میں رہائش پذیر تھے آپ نے کئی کتابیں بھی تصنیف فرمائیں جن میں البیان الکامل فی الدق ولا لسل " بہت مشہور ہوئی۔ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنے پیچھے چار بیٹے اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑیں اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر آپ کے بھائی ڈاکٹر محمد زبیر صاحب ایم بی بی ایس روارثی منزل بہار کالونی کراچی ملے) کے نام حسب ذیل تعزیت نامہ لکھا : - بوه بسم الله الرحمن الرحیم 414106 وعلى عبده المسيح الموعود نحمده ونصلى على رسوله الكريم کریمی محترمی ڈاکٹر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط فرمودہ ۷/۲/۵۷ موصول ہوا ڈاکٹر محمد عمر صاحب کی وفات کا مجھے علم ہو چکا ہے اور اس کا بہت صدمہ ہوا اس لیے بھی کہ وہ رفیق مسیح موعود تھے اور آپ کے خاندانی مجلس کی شمع اول تھے اور اس لیے بھی کہ وفات کے قریب ان کو اپنی اولاد کے ایک حصہ کی بے راہ روی کا صدمہ دیکھنا پڑا اٹھ به ناشر ادارہ فروغ اردو لاہور طبع دوم یکم دسمبر ۱۹۴۶ء الفضل ۲۷ ر ما با ۱۹۵۷ء ص ۲