تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 592 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 592

OLL نومبر ۱۹۰۳ ء سے اکتوبر ۱۹۰۴ توتک متواتہ قادیان میں رہا۔ان دنوں مولوی کرم دین بھین کا مقدمہ فوجداری چل رہا تھا اور تمام اگریہ اور عیسائی اور غیر احمدی اُس کی مدد کر رہے کچہری میں جب دو سال قبل کی پیشنگوئی کے الفاظ جو کہ مواہب الہی من میں درج ہو چکی ہے ،جن میں کہ ہم دین نام شخص کو کہا گیا تھا کہ وہ کذاب بیٹیم بنان عظیم ہے) پڑھے جاتے تھے تو عجیب لطف آنا تھا۔ستمبر ۱۹۰۴ء میں لیکچر لا ہور اور نومبر ۴، ۱۹ ء میں سیکچر سیالکوٹ میں شامل ہوا اور اکتوبر ۱۹۰۴ء کے آخیر میں ملازم ہو کر پنڈی گھیپ چلاگیا۔وہاں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اور سلامت شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔دسمبر ۱۹۰۵ ء میں رسالہ الوصیت نکلا جنوری ۱۹۰۲ء میں تیسرے حصہ جائیداد کیا۔صیبت کی بلکہ اسی وقت ایک ہزار روپیہ کے مکانات جو کہ مدرسہ احمدیہ کے شمالی جانب ہیں وصیت میں دے دیئے اور چندہ ماہوار بتدریج ۱۸ روپیہ ماہوار تک کر دیا اور مہمان خانہ کے طحق مکان ریائش بغیر کہا یہ اکثر مہمانوں باسٹور کے کام آتا تھا۔دوران مقدمه گورداسپور میں الہام عفت الرِّيَارُ مَحِتهَا وَمَقَامُهَا " اور تزلزل در ایوان کسر ٹی اور ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت وغیرہ میری موجود دگی میں ہوئے تھے۔حضور علیہ السلام کی وفات سے قبل ۱۸ر مئی ۱۹۰۸ ء میں لاہور کے جلسہ دعوت عمائدین لاہور میں شرکت کی۔دوسرے دن وہاں سے رخصت ہوئے میرے رخصت ہوتے وقت حضرت اقدس نے فرمایا۔جاؤ اللہ حافظ۔ہاں میں نے کہا تھا کہ حضور نہیں تو اب بہت دور چلا گیا ہوں یعنی الہ آباد۔تو آپ نے فرمایا کہ در در نزدیک کیا ہمیں تو تبلیغ کرتی ہے۔چند دن کے بعد حضور کے وصال کی خبر پڑھ کر بہت رنج ہوا اپنے مندرجہ بالا بیان میں آپ کے سفر گورداسپور کا بھی ذکر ہے۔نام گورداسپور کے دوران آپ کو لے اختبار البدر قادیان (۲۴ جولائی ۱۹۰۴ء) نے لکھا کہ : ہم اپنے دوست با بو غلام غوث کو خصیت سے مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے قادیان کے ہ ماہ کے قیام میں خدا تعالیٰ کے انعامات کو دوسرے افریقی حمدی بھائیوں کے مقابل خصوصیت سے بڑھ کہ حاصل کیا ہے چنا نچہ یہ انتقل سائنٹی کے لیے ایک عمدہ بر محل مکان اور قطعہ زمین حاصل کیا ہے آئندہ بھی اُن کا ارادہ یہاں مستقل رھائش کا ہے۔صفحہ ۳ کالم ۳) الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۵۰ء صفحه ۲