تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 593
BLA ایک خاص اعزاز بھی نصیب ہوا ، روہ یہ کہ حضرت مسیح موعود کے عشاق ایک مدت سے آرزو مند تھے کہ حضور کے پیچھے نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہو جائے یہ ذکیہ بینہ خواہش اور دلی تمنا اور جولائی ۱۹۰۴ء کو یہ آئی جبکہ حضرت امام الزمان نے نماز ظہر اور عصر قصر اور جمع کر کے پڑھائیں۔اس مبارک نماز کے وقت مقتدیوں کی کل تعداد میں تھی ان خوش نصیبوں میں آپ بھی تھے۔حضرت بابو محمد الفضل صاحب ایڈیٹ " البدر نے اس تاریخی نمازہ کی کیفیت اور اس میں شامل ہونے والے بزرگ اصحاب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا :۔ایک بجے کا وقت تھا۔کہ حضرت امام الزمان علیہ السلام نے چند ایک موجودہ خدام کو ارشاد فرمایا کہ منانے - پڑھ لی جا دے۔سب نے دھنو کیا۔نمانہ کے لیے چٹائیاں بچھیں۔حاضرین منتظر تھے۔کہ حسب دستور سابقہ حضور علیہ السّلام کسی حواری کو امامت کے لیے آگے بڑھے۔اور اقامت کے جانے کے بعد آپ نے نماز ظہر اور عصر قصر اور جمع کر کے پڑھائیں حضور علیہ الصلوۃ والسّلام کو امام اور خود کو مقندی پا کر حاضرین کے دل باغ باغ تھے۔ان مقتدیوں میں کئی ایسے اصحاب تھے۔جن کی ایک عرصہ سے آمنہ و تھی۔کہ کبھی حضرت مین موعود علیہ السّلام نماز میں خود امام ہوں۔اور ہم مقتدی ان کی امید آج بر آئی اور مجھ پر بھی یہ راز کھلا۔کہ امام نماز کی ہیں قدر توجیہ الی اللہ زیادہ ہوتی ہے۔اسی قدر جذب قلوب بھی زیادہ ہوتا ہے۔چونکہ خدا کے فضل سے اس مبارک نمازہ میں میں خود بھی شریک تھا۔اس لیے دیکھا گیا۔کہ بے اختیار دلوں پر عاجزی اور فروتنی اور حقیقی بجز و انکسار غالب آتا جاتا تھا۔اور دل اللہ تعالے کی طرف کچھا جاتا تھا۔اور اندر سے ایک آواز آتی تھی۔کہ دعا مانگو۔قلب رقیق ہو کہ پانی کی طرح یہ یہ جاتا تھا۔اور اس پانی کو آنکھوں کے سوا اور کوئی راستہ نکلنے کا نہ ملتا تھا اور اس مبارک وقت کے ہاتھ آنے پر شکر یہ الہی میں دل ہر گنہ گوارا نہ کرتا تھا کہ سجدے سے سر اُٹھا یا جاوے۔غرضیکہ عجیب کیفیت تھی۔اور ایک متقی امام کے پیچھے نماز ادا کرنے سے جو جو بخششیں اور رحمت از روئے حدیث شریعت مقتدیوں کے شامل حال ہوتی ہیں۔ان کا ثبوت دست بدست مل رہا تھا۔چونکہ یہ ایک ایسا عجیب وقت تھا۔جس کے میسر آنے کی عمر بھر میں بھی امید نہ تھی۔اور محض فضل ایزدی سے نہیں اور چند ایک دیگر احباب ملت کو میٹر آگیا۔اس لیے مناسب ہے کہ اس مبارک وقت کے وجودہ مقتدیوں کے نام قلمبند کر دیئے جائیں۔جن کی خدا تعالیٰ نے اس طرح عزت افزائی فرمائی اور آئیندہ