تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 586
ALI حضرت مصلح موعود نے ایک مجمع کثیر کے ساتھ مٹرک کے موڑ کے قریب آپ کا استقبال کیا اور اس مقدس سنتی کی قضاء أضلادُ سَعْلاً وَ مَرْحَبًا اور مبارک باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔نماز مغرب کے بعد حضرت مصلح موعود نے ایک لمبی دعا کرائی جس کے بعد حضور کی اجازت سے مفتی صاحب نے ایک مختصر مگر درد نگیر تقریہ کی میں میں بتایا کہ میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ میں مغربی ممالک میں تبلیغ کر سکوں گا۔میں ایسا ضعیف البیان انسان ہوں کہ سمجھا کرتا تھا کہ مغربی ممالک میں ایک ہفتہ کے لیے بھی زندہ نہ رہ سکوں گا۔مگریہ ہی صحت قائم رہی، میں نے لمبے لمبے سفر کیے ، تنگ کو مٹڑیوں میں دن گزارے ، میرے قتل کے منصوبے کیسے گئے ہو نا کام رہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے ہر اعتبار سے کا میابی بخشی مگر یہ معجزہ محمود کا معجزہ ہے ایسے یورپ دامریکہ سے واپسی کے بعد آپ قادیان میں دوبارہ مقدمات دینیہ بجالانے لگے اس اثناء میں آپ صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹری مقرر ہوئے اور اس منصب کو نہایت قابلیت سے سنبھالا۔۱۹۲۴ء میں حضرت مصلح موعود نے پہلے سفر یورپ کے موقعہ پر حضرت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب اور آپ کو نائب امیر مقامی مقرر ہوئے فرمایا : در مفتی محمدصادق صاحب بھی پرانے مخلصین میں سے ہیں اور سلسلہ کی خدمات ہیں انہوں نے بہت حصہ لیا ہے۔حضرت مسیح موعود کو ان سے خصوصیت سے محبت تھی وہ حضرت مسیح موعود کے ایسے خدام میں سے تھے جو ناز بھی کرلیا کرتے تھے اس زمانہ میں بھی مدافعا لی نے انہیں تبلیغ کی مذمتوں کا موقع دیا تھا یہ سکے ۱۹۲۶ء میں نظارتوں کا صدر انجین احمدیہ سے الحاق ہوا تو آپ پہلے ناظر امور خارجہ اور پھر ناظر امور عامر اور بعض دفعہ سرد و فرائض انجام دیتے رہے ان انتظامی امور کے ساتھ ساتھ آپ کی قلمی و لسانی خدمات کا پر جوش سلسلہ بھی جاری رہا۔اکتوبر ۱۹۲۷ء میں آپ سیلون تشریف لے گئے تھے کو لمبو میں ایک پادری صاحب نے مسلمانوں کو مباحثہ کا چیلنج دیا تھا مسلمانوں نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اس کی اطلاع دی جس پر آپ کو جانے کا ارشاد ہوا۔کولمبو کے مسلمانوں نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔پادری صاحب تو آپ کے آنے ه الفصل ۴ دسمبر ۱۹۲۳ء / ٣ : له الفضل ۲۲ جولائی ۱۹۲۴ء ص ة الفضل د اکتوبر ۱۹۲۷ء مٹ : الفضل ۲۱ اکتوبر ۱۹۲۷ د ت : الفصل ۲۵ اکتوبر ص ۱۹۲۷ء مرا - الفضل 11 نومبر ۱۹۲۷ء مت - الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۲۷ء ص ۲ ::