تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 577
۵۶۲ ایک مفتی محمد صادق کو دیکھتا ہوں رسلمہ اللہ وبارک و علیہ وفیہ) کوئی چھٹی مل جائے یہاں موجود میفتی صاحب تو عقاب کی طرح اس تاک میں رہتے ہیں کہ کب زمانہ کے زور آور ہاتھوں سے کوئی فرصت عضب کریں اور محبوب اور مولی کی زیارت کا شرف حاصل کریں۔اسے عزیز برادر خدا تیری ہمت میں استقامت اور کوشش میں برکت رکھے اور تجھے ہماری جماعت میں قابل اقتدار اور قابل فخر کارنامہ بنائے۔حضرت صاحب نے بھی فرمایا کہ لاہور سے ہمارے حصہ میں مفتی صادق صاحب ہی آئے ہیں۔میں حیران ہوں کہ کیا مفتی صاحب کو کوئی بڑی آمدنی ہے ؟ اور کیا مفتی صاحب کی جیب میں کسی متعلق کی درخواست کا ہا تھہ نہیں پڑتا اور مفتی صاحب تو مہنوز تو عمر ہیں اور اس عمر میں کیا کیا امنگیں نہیں ہوا کہ تھیں پھر مفتی صاحب کی یہ سیرت اگر عشق کامل کی دلیل نہیں تو اور کیا وجہ ہے کہ وہ ساری زینجیروں کو توڑ کر دیوانہ وار بٹالہ میں اتر کر نہ رات دیکھتے ہیں نہ دن ، نہ سردی نہ گرمی نہ بارش نہ آندھیری ، آدھی آدھی رات کو یہاں پیاده پہنچتے ہیں جماعت کو اس نوجوان عاشق کی سیرت سے سبق لینا چاہیئے، پہلے اس زمانہ میں آپ کو دین حق کی متعدد خدمات بجالانے کی توفیق علی مثلاً ۱ ۱۸ رمٹی ۱۹۰۰ ء کو لاہور میں بشپ جارج الفریڈ لیفرائے " زندہ رسول اور معصوم بنی پر تقریر ہوئی۔انہوں نے لیکچر کے بعد مسلمانوں کو اعتراضات کرنے کا موقعہ دیا جس پر حضرت مفتی صاحب جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور لاٹ پادری کو لاجواب کر دیا کہ اس شکست کا انتظام پیسنے کے لیے لاٹ یاور مکی صاحب نے ۲۵ رمٹی کو ایک اور لیکچر دینے کا اطلاق کیا۔جس پر حضرت اقدس مسیح موعود نے مفتی صاحب کی تحریک پر ایک پر شوکت مضمون رقم فرمایا جسے حضرت مفتی صاحب نے بشپ موصوف کے لیکچر کے بعد اس جوش و خروش کے ساتھ پڑھا کہ لاہور مسلمانوں کے نعرہ تکبیر سے گونج اُٹھا۔بشپ صاحب انگشت بدنداں رہ گئے۔اور یہ کہ کہ چپ سادھ لی کہ تم مرزائی ہو میرے مخاطب عام مسلمان ہیں۔میں تم سے گفتگو نہیں کرنا سے ** الحکم ) جنوری ۱۹۰۰ ء صفر رذکر جیب (۲۳۲) : سے الحکم ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ ء صفحہ ا نتہ الحکم اور مٹی ارہ الحکم ۴ ارمئی ۱۹۰۸ء ص ر تفصیل م تاریخ احمدیت جلد سوم صہ میں آپکی ہے )