تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 575 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 575

- حضرت صاحب مجھے ایک علیحدہ مکان میں لے گئے۔میں حصہ زمین پر نواب محمد علی خانصاحب کا شہر وال مکان ہے۔اور جس کے نیچے کے حصہ میں مرکزی لائبریہ ہی رہ چکی ہے۔جس کے بالاخانہ میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رہ چکے ہیں (آجکل اگست ۱۹۳۵ء میں وہ بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا ہے) اس نہ مین پر اُن دنوں حضرت صاحب کا مویشی خانہ تھا۔گائے ، میں اُس میں باندھے جاتے تھے اس کا دراسته کوچه بندی میں سے تھا۔حضرت صاحبت کے اندرونی ادارے کے سامنے مویشی خانہ کی ڈیوڑھی کا دروازہ تھا۔یہ ڈیوڑھی اُس جگہ تھی جہاں آجکل لائبریری کے دفتر کا بڑا کرہ ہے۔اس ڈیوڑھی میں حضرت صاحب مجھے لے گئے اور اندر سے دروازہ بند کر دیا۔اُن ایام میں ہر شخص کی بیعت علیحدہ علیحدہ لیجاتی تھی۔ایک چارپائی بچھی تھی۔اس پر مجھے بیٹھنے کو فرمایا۔حضرت صاحب بھی اس پر بیٹھے میں بھی بیٹھ گیا۔میرا دایاں ہا تھ حضرت صاحب نے اپنے ہاتھ میں لیا۔اور دس شرائط کی پابندی کی مجھ سے بیعت لی۔دس شرائط ایک ایک کر کے نہیں دہرائیں۔بلکہ صرف لفظ دس شرائط کہ دیا۔جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا۔جو کہ غالبا دسمبر تکلیہ کے آخر میں تھا۔اس وقت میں اُس کرتے ہیں ٹھہرایا گیا ، جسے گول کمرہ کہتے ہیں۔اس کے آگے وہ تین دیواری نہ تھی جو اب ہے۔اس وقت یہی مہمان خان تھا۔اور حضرت مسیح موعود یہیں بیٹھ کر مہمانوں سے ملتے تھے۔یا اس کے دروازے پر میدان میں چار پائیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔اس کے بعد بھی وہ تین سال تک وہی مہمان خانہ رہا۔اس کے بعد شہر کی فصیل جب فروخت ہوئی۔تو اس کو صاف کر کے اس پہ مکانات بنے کا سلسلہ جاری ہوا۔اور وہ جگہ بنائی گئی جہاں حضرت خلیفہ اول کا مطلب اور موٹر خانہ ہے اور اس کے بعد وہ مکان بنا یا گی جہاں اب مہمان خانہ ہے۔پہلے اس میں حضرت خلیفہ ایسیح الاوّل رہا کرتے تھے۔جب حضرت خلیفہ اصبح الاول نے دوسری طرف مکان بنا لیے تو یہ مکان مہمانوں کے استعمال میں آنے لگا۔اس مہمان خانہ میں بھی میں مقیم ہوتا رہا۔پھر جب مولوی محمد علی صاحب کے واسطے بیت المبارک کے متصل اپنے مکان کی تیسری منزل پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کمرہ بنوایا۔تو جب تک کہ مولوی محمد علی صاحب کی شادی نہیں ہوئی مجھے بھی اُسی کمرے میں حضرت صاحب ٹھہرایا کرتے اہلے " ذکر حبیب صفر به نام راز حضرت مفتی محمد صادق صاحب) مطبوعہ ۶۱۹۳۶