تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 44 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 44

۴۴ کی طرف چلا گیا۔کہ میں رومی حکومت کو اکساتا ہوں تم اوپر نیمشہور کرد که رومی لشکر مردوں پر جمیع ہو گیا ہے جب محمد رسول اللہ اسلامی لشکر سمیت اس طرف جائیں گے۔تو میں کسی کو نہ پائیں گے اور سخت مایوس ہو کر لوٹیں گے۔تو تم مدینہ میں مشہور کر دینا کہ یہ دیکھو لمانوں کا رسول۔بات کچھ بھی نہ تھی۔مگر اس نے اس کو اتنی اہمیت دے دی۔مگر الہ تعالی نے رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے مقفل کی تائید کی۔اور صرف تین آدمی جو سینکڑوں کے لشکریہ میں سے پیچھے رہ گئے تھے ان کو سخت علامت کی۔اور ان میں سے ایک کا بائیکاٹ کر دیا۔حالانکہ جب رومی لشکر تھا ہی نہیں تو تین چھوڑ کے تین ہزارہ آدمی بھی نہ جاتا تو اسلام کا کیا نقصان تھا۔قرآن کو تو یہ کہنا چاہیئے تھا کہ یہ پیچھے رہنے والے بڑے عقلمند تھے۔اور جو لوگ اپنی فصلیں تباہ کر کے گرمی میں محمد رسول اللہ صلعم کے ساتھ گئے وہ بڑے احمق تھے۔اس واقعہ میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے۔کہ واقعہ خواہ کچھ بھی نہ ہو۔اگر مسلمانوں کو بہتر لگ جائے کہ منافق دین کے لئے کوئی خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔تو ساری امت مسلمہ کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیئے۔اور جو کوئی اس میں سستی کرے گا۔ہ مسلمانوں میں سے نہیں سمجھا جائے گا۔اور مسلمانوں کو اس سے مقاطعہ کرنا ہو گا۔اب تبوک کے واقعہ کو دیکھو جو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان ہے اور دیکھو کہ احمدیوں میں سے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنی چھوٹی سی باتکو اتنا کیوں بڑھایا جارہا ہے اور ان کیساتھ بون چانا احمدیوں کیلئے جائز ہے اگر وہ احمدی کہلا سکتے ہیں اور ان کے ساتھ بولنا چاہنا جائز ہے تو پھر قرآن اورمحمد رسول اللہ نے تبوک کے موقعہ پر غلطی کی ہے جس وقت کہ مال چھوٹا ہی نہیں تھا بلکہ تھا ہی نہیں اور پھر وہ لوگ بتائیں کہ حضر عثمان کے وقت میں شرارت کرنیوالے لوگوں کو حقیر قرار دینے والے لوگ کیا بعد میں اسلام کو جوڑ سکے اگر وہ اس وقت منافقوں کا مقابلہ کرتے تو نہ ان کا کوئی نقصان تھا۔اور نہ اسلام کا کوئی نقصان تھا۔مگر اس وقت کی غفلت نے اسلام کو بھی تباہ کر دیا۔اور انتحار سلام کو بھی برباد کر دیا۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ۲۷۷/۵ شد چوہدری بشارت احمد صاحب ولد چوہدری محمد شریف صاحب چک نمبر ۸ ۹ شمالی سرگودیا شم نے یہ تحریری نے کہ میں نے یہ تحریر می اطلاع دی کہ اللہ ر کھا نے کہا ہے کہ میں نے میاں بشیر احمد صاحب کو یہ لکھا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی وفات ہوگئی تو ہم آپ کی بیعت کریں گے۔مرزا ناصر احمد صاب