تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 571 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 571

004 فصل سوم رفت و حضرت مسیح موعود کا انتقال یہ سال عام الحزن کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ اس میں حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود کے متعدد قدیم اور نہایت جلیل القدر رفقائے خاص داغ مفارقت دے گئے اور یہ مقدس گردہ جو حضرت اقدس کے عہد مبارک میں لاکھوں پر مشتمل تھا اب صرف چند سو کی تعداد میں رہ گیا ا میاں غلام رسول صاحب آف ڈیرہ غازیخان ولادت اندازاً ۱۸۷۸ ء - بیوت ۱۹۰۴ ء وفات کم جنوری ۱۹۵۷ء) چوغطہ خاندان کے ایک معزز فرد تھے۔آپ شہر ڈیرہ غازیخان کے سب سے پہلے فرد تھے جن کو احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی اپنی وسیع برادری دالدین رشتہ داروں دوستوں کی ناراضگی کی کچھ پر داہ نہ کی۔یہ وہ زمانہ تھا جب شہر ڈیرہ غازیخان میں حضرت اقدس مسیح پاک کی مخالفت شدت اختیار کر چکی تھی۔تکفیر اور بائیکاٹ کا حربہ زوروں پر تھا آپ کو اس زمانہ کی سب مشکلات و مصائب میں سے گزرنا پڑا اور ان سب تکالیف کو بعد ذوق وشوق مبر کے ساتھ یہ داشت کیا اور ثابت قدم رہے۔آپ ڈپٹی کمشنر صاحب ڈیرہ غازی خان کے دفتر میں بطور کلرک ملازم تھے اور ۱۹۲۴ ء میں ریٹائر ہو کہ پینشن یاب ہوئے۔ملازمت کا سارا زمانہ نہایت دیانتداری سے گزارا۔آپ کی تنخواہ قلیل تھی۔جس سے گذر اوقات مشکل سے ہوتی تھی۔مگر آپ نے ہمیشہ صبر و رضا کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔تقومی طہارت کی یہ حالت متی کہ تھوڑے دن ہوئے کہ آپ حسن خان ننا مجانہ کے پاس ضلع کچہری میں اپنے کام کے سلسلہ میں آئے اور اونچی آواز میں کچھ فرمانے لگے اور ان کے ذمہ ایک کام لگا کر چلے گئے کچھ فاصلہ پر ایک معزز