تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 562
۵۴۷ سے فنانس سنٹر مشرقی پنجاب مسٹر آر۔ایل کپور صاحب انجینر میرٹھ۔مسٹرا ہے۔ایم ڈاکٹر پنجاب نیشنل بنگ دہلی۔کیپیٹی جگت سنگھ صاحب اسسٹنٹ ریکروٹنگ آفیسر امرتسر محترمہ من التفسیلین دیلیس صاحبہ چنڈی گڑھ لیے بھارت کے بااللہ انگریزی روز نامه" ہندوستان ٹائمز (HINDUSTAN TIMES) نے اپنی ۲۵ اکتوبر ، ۱۹۵ ء کی اشاعت میں لکھا :- احمدیوں کا قادیان میں اجتماع دین اسلام کو پھیلانے کی ترغیب۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفة المسیح امام جماعت احمدیہ نے اپنے خاص پیغام میں ہو آپ نے ہندوستانی احمدیوں کے لیے جلسہ سالانہ پر بھجوایا اور جو جلسہ قادیان کے افتتاحی اجلاس میں پڑھو کرشنا یا گیا فرمایا۔اسلام کی تبلیغ کو مشرقی پنجاب اور قریب کے صوبہ جات میں پھیلاؤ۔یہی ایک ذریعہ ہے جس سے پاکستان اور ہندوستان کے دل مل سکتے ہیں۔جلسہ کے موقعہ پر انڈونیشیار ، مصر، مغربی دمشرقی افریقہ سیلون - صوبجات متحدہ امریکہ اسپین اور پاکستان کے مشہور احمد یوں کی طرف سے بھی پیغامات موصول ہوئے جو اجلاس میں پڑھے گئے۔اس تقریب میں تقریبا بارہ صد احمد می اور ایک ہزار سکھ اور ہندو شال ہوئے پاکستان سے صرف میں احمد ہیں جن میں پانچ مستورات بھی شامل تھیں آئیں ڈاکٹر سیدمحمود احمد صاحب رسابق وزیر خارجہ ہندوستان) نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ احمدیہ جماعت میں شامل نہیں۔لیکن خلیفہ صاحب اور جماعت احمدیہ کو بہت عزت واحترام کے جذبات سے دیکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو اسلام کی بے غرضانہ خدمت میں وقف کیا ہے جلسہ میں مندرجہ ذیل مشہور احمد می شامل ہوئے :- ڈاکٹر سید اختر صاحب آن پٹنہ یونیورسٹی پروفیسر عبد السلام بنارس یو نیورسٹی۔مسٹر محمد ایوب۔اے ڈی له بدر ۱۷ اکتوبر ۱۹۵۷ء ص ۱۲ : سے یہ صحیح نہیں۔اگر چہ اس سال اند پاکستان کی باقاعدہ اجازت نہیں مل سکی۔پھر بھی ۳۵۰ پاکستانی احمدی دیزا سے شامل جلسہ ہوئے ( بدر، ا ر اکتوبر ۱۹۵۷ عصر)