تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 563
۵۴۸ انیم جوبه بهار مولوی محمد اسمعیل صاحب وکیل یاد گیر (دکن) اور مسٹر شرافت خاں اڑیسہ۔تین دن تک حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے پیروؤں سے روحانی اسماجی ، ثقافتی اور جماعت احمدیہ کے انتظامی امور پہ تقاریر کیں مستورات کا جلسہ علیحدہ ہوا (ترجمہ) روز نامہ ٹائمز آف انڈیا مورخہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۵۷ ء میں اس مبارک جلسہ کی حسب ذیل خبر چھپی :- اسلامی تعلیمات کو پھیلاؤ۔احمدیت کا پیغام حضرت خلیفہ المسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے اپنے خصوصی پیغام میں جو آپ نے جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر سمند دستان احمدیوں کے نام بھجوایا فرمایا اسلامی پیغام کو مشرقی پنجاب اور قریب کے صوبوں میں پھیلاؤ یہی ایک طریق ہے جس سے ہندوستان اور پاکستان کے دل متحد ہو سکتے ہیں اور وہ بغیر جنگ کے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔آپ نے ہندوستانی احمدیوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ پاکستان یار بوہ راحمدیہ جماعت کے پاکستانی مرکزہ) کی طرف نظرنہ اٹھائیں کیونکہ خدا تعالی کے منشاء کے ماتحت ملکوں میں سے مہند دوستان اور شہروں میں سے قادیان احمدیہ جماعت کے روحانی مراکز ریں کیونکہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مع موجود بالی سلسلہ احمدیہ قادیان کی ولادت قادیان میں ہوئی اتر جیا جلسہ سالانہ ریوه - ۲۸/۲۷/۲۶ دسمبر کو شمع احمدیت کے ستر ہزار پر دانوں کا ربوہ میں عدیم المثال اجتماع ہوا اور دنیا نے ایک بار پھر دیکھا کہ تحریک احمدیت کو مخالفتوں اور عداوتوں کے طوفانوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی خارق عادت تائید و نصرت حاصل ہے۔اس کامیاب جلسہ میں پاکستان کے علاوہ ہالینڈ ، انگلستان، جرمنی مشرقی افریقہ اور ہندوستان سے بھی بعض مخلصین نے شرکت فرمائی اور امام ہمام سیدناحضرت مصلح موعود کے روح پر در خطاب اور سلسلہ کے دیگر بزرگوں اور علماء عظام کی فاضلانہ تقاریر سے مستفید ہوئے ہے حضور نے اپنی افتتاحی تقریرہ میں تغیر ضیغر ، تبویب مسند احمد بن منبل جلدا کی اشاعت اور تاریخ نه سجواله "بدر" قادیان ۱۴/ نومبر ۶۱۹۵۷ ۹ له الفضل بیکم جنوری ۵۸ مات