تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 556
OM تغیر صغیر کی اشاعت سے دنیائے ترجمہ قرآن مجید میں ایک انقلاب تفیہ صغیر کی غیر معمولی مقبولیت معمولی مقبولیت راتیں آگیا۔کیونکہ یہ ترجمہ ایساسلیس با محاورہ اور آسان تھا کہ ہر شخص قرآن مجید کے بیان کردہ مفہوم کو بآسانی اخذ کر سکتا تھا۔عشاق قرآن شمع قرآن کے حصول کے لیے پروانہ دار پہنچے اور ہر احمد می خاندان نے کوشش کی کہ اس کا ہر فرد اپنا علیحدہ نسخہ حاصل کرے تا قرآن مجید کے مفہوم و علوم سے ہر وقت جہاں کہیں ہو۔بہر در ہوتار ہے۔اسی طرح ہر جماعت میں قرآن مجید کا درس دیا جانا اس سے بہت آسان ہو گیا۔اور ہر چھوٹے بڑے نے اس سے استفادہ کیا۔غیر از جماعت احباب نے بھی سے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا۔اور اس کے مطالعہ کے بعد اس کا گردیدہ ہو گیا۔تفسیر صغیر کے پہلے ایڈیشن کے شائع ہونے سے لیکر اب تک اس کی اس قدر مانگ رہی ہے کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ بھارت میں بھی متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔اور اس کی نا یا بی کو ایک نقصان عظیم سمجھایا۔تغیر صغیر کو اپنوں کے علاوہ دوسروں اور بیگانوں میں غیر معمولی مقبولیت تغیر صغیر دوسروں کی نظر میں حاصل ہوئی جس کا زمانہ حسب ذیل تاثرات سے بآسانی لگایا جاسکت ہے :۔ا - اخبار امروز (لاہور) نے ۳۰ رمئی ۱۹۶۶ ء کی اشاعت میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔مضمر: الحاج مرز البشیر الدین محمود مرحوم - ضخامت : - ۵۳ صفحات - ہدیہ پچیس روپے۔ناشر ادارة المصنفى ربوہ ضلع جھنگ۔قرآن حکیم پوری بنی نوع انسان کے لیے رشد و ہدایت کا منبع دوست پیشہ ہے۔انزل سے رہتی دنیا تک، به کتاب مبین انسانوں کو دینی اور دنیوی معاملات میں عدل کا راستہ دکھاتی رہے گی اور بھوئے میشکوں کو صراط مستقیم پر لاتی رہے گی۔قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔زندگی کا کوئی سا شعب کوئی سا گوشہ اور کوئی سامرحلہ ایسا نہیں ہے جہاں ہم قرآن سے استمداد نہ کر سکتے ہوں۔لیکن ظاہر ہے کہ اس کے لیے مطالب قرآن پر حاوی ہونا لازم ہے۔جب تک قرآن میں منضبط احکام خداوندی کے مفاہیم کا انشراح ہی نہ ہو گا۔رشد و ہدایت کا سلسلہ کیسے شروع ہوگا۔اسی ضرورت کے پیش نظر قرآنی مطالب کی تشریح و تفسیر کا سلسلہ شروع ہوا اور نزول قرآن سے لے کہ اب تک اور پھر اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔جن لوگوں نے قرآنی فہمی عام کرنے کے سلسلہ میں کوئی سا حصہ بنایا ہو