تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 553
۵۳۸ کے ساتھ نہیں لگے گا۔لیکن تغییر صغیر کے پہلے ایڈیشن میں بہت جگہ جہاں اللہ کا لفظ تھا وہاں کا تب نے اس کے ساتھ تعالیٰ کا لفظ بھی لکھ دیا ہے۔اب شروع سے لے کر آخر تک ترجمہ ایک جیسا کر دیا گیا ہے۔پس اس قسم کی جو غلطیاں تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پھر تغیر صغیر کے پہلے ایڈیشنوں کے آخر میں کچھ نوٹ بطور منیجر کے تھے اس لیے ان کے پڑھنے میں بڑی دقت ہوتی تھی۔اب وہ سارے نوٹ آیات کے نیچے آ گئے ہیں۔تغیر صغیر کی نظر ثانی میں مکرم مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب نے بڑا حصہ لیا ہے۔کرم شمس صاحب نے بھی کام کیا ہے۔حکیم ابوالعطاء صاحب نے بھی ایک حد تک کام کیا ہے۔اور پر دن ریڈنگ کے وقت کرم میاں عبدالحق صاحب رامہ نے بھی کام کیا ہے۔رامہ صاحب پر دن اچھی طرح دیکھتے ہیں۔چنانچہ ان کے سامنے سبب بھی کوئی چیز آئی۔انہوں نے نہیں اس کی طرف توجہ دلائی اور خاکسار بھی اللہ تعالی کے فضل سے شروع سے آخر تک اس کام میں شریک رہا۔اس کے علاوہ اللہ کی حکمت اور ارادہ سے ان دوستوں نے بھی جنہوں نے اس کے بلاک بنائے بانہوں نے اسے چھاپا اتنی محبت اور پیار سے یہ کام کیا ہے کہ حیرت آتی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا کرے۔با وجود اس کے کہ تفسیر صغیر یہ بہت خرپا آیا ہے اور اس پر ایک پلاسٹک کور بھی ہے اس کی قیمت صرف ۲۵ روپے رکھی گئی ہے۔لاہور کے بہت سے دوکاندار بھی مطالبہ کرتے تھے کہ ان کے پاس تغیر صغیر رکھی جائے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کی ہجر میں بہت ہو گی۔لیکن ان کی شرط یہ تھی کہ پانچ روپے فی نسخہ وہ کمیشن لیں گے۔ہمارا خیال تھا کہ اس پر نفع لینے کی بجائے اسے زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں پہنچایا جائے۔اور جماعت کے دوست بھی اور غیر انہ جماعت دوست بھی تو اس میں دلچسپی رکھتے ہوں۔اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔اور اس کا حل ہم نے یہ سوچا ہے کہ پہلے تین ماہ کے لیے اس کی رعایتی قیمت بنیں روپے ہو گی۔احباب اس قیمت پر ا سے حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس عرصہ کے گزرنے کے بعد یہ اصل قیمت پر طے گی۔جو دکانداروں سے خریدیں گے وہ تو بہر حال