تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 547
۵۳۲ کے بعد جب اس کا پہلا ہزار چھپ گیا تو اس کا بھی جماعت میں اعلان کیا جاچکا ہے اس کے بعد خیال ہوا کہ تفسیر سے پہلے انڈکس یعنے فہرست مضامین قرآنی بھی لگا دی جائے تاکہ اس کے مطالعہ کے بعد ہراحمدی کی آنکھوں کے سامنے قرآن کریم کے سارے مطالب آجائیں اس طرح سے یہ کتاب جو ۱۲۰۰ صفحات میں چھینی تھی وہ ۴۶۶ صفحات میں چھپی ہے۔نیز جا بہ میں رہ کر کام کرنے کی وجہ سے اس کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔اس وجہ سے سولہ روپے فی جلد کی بجائے قیمت اٹھارہ روپے فی جلد کر دی گئی۔مگر جن کے نام پہلے ہزار میں آئے ہیں۔اُن کو بہر حال کتاب 14 روپے فی جلد کے حساب سے ملے گی۔بعض لوگ بڑی جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے فائدہ اٹھارہے ہیں کیونکہ جن کی جماعت نے زیادہ تعداد کا آرڈر بھجوایا ہو گا اس جماعت کو بہت ساکیشن ملے گا وہ اپنے کمیشن میں سے کچھ حصہ اگر خریداروں کو دیدیں تو امید ہے ۱۶/۵۰ روپے یا ۱۷/۵۰ روپے تک وہ بھی قرآن کریم کو اپنی جما عت کے لوگوں میں تقسیم کر سکیں گے۔اب صرف یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم سارے کا سارا معہ ترجمہ و تفسیر صغیر نیز ۱۱۲ مقدمات کی فہرست مضامین جلد سمیت خدا تعالیٰ کے فضل سے تیار ہو چکی ہے اور مجھے مل چکی ہے۔لیکن میرا ارادہ ہے کہ تقسیم انشاء احتد تعالی جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہی کی جائے۔اس وقت تک غالباً دو ہزار کتاب تیار ہوچکی ہوگی باقی جوں جوں تیار ہوتی جائے گی جماعتوں کو ان کے آرڈروں کی ترتیب کے لحاظ سے تقسیم ہوتی رہے گی۔لیکن چونکہ لوگوں میں گھبرا ہٹ پائی جاتی ہے اس لیے ان کے دلوں کے اطمینان کے لیے ابھی سے یہ اعلان شائع کیا جاتا ہے۔جماعت میں شوق تو اتنا ہے کہ بعض لوگ دور دور سے آکر ربوہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے تعلق کی وجہ سے پریس میں جا کہ تغیر پڑھ لیتے ہیں۔اور اس طرح اپنے دل کو تسکین دے لیتے ہیں۔خلیفة المسیح الثانی ۱۳/۱۱/۵۷ روزنامه الفضل ربوه ۱۵ نومبر ۱۹۵۷ رند صف