تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 544 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 544

۵۲۹ نے نہ پہنچ کر سورہ کی کتابت کا کام شروع کر دیا۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح کی اس طرف بہت زیادہ تو میہ تھی کہ تفسیر صغیر جلدی سے جلدی طبع ہو۔چنانچہ حضور تے ، رسٹی کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: - چاہیئے کہ کیا کا تب اور کیا چھاپنے والے اور کیا منتظم اور پھر کیا وہ لوگ جن کو میں ترجمہ ڈکٹیٹ کرواتا ہوں۔وہ رات دن ایک کر کے اس کام کو ایک دفعہ پورا کر دیں۔تا لوگ اس سے فائدہ اٹھا نا شروع کر دیں۔اور ان کے لیے ثواب کا ایک رستہ کھل جائے۔زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اگر ترجمہ چھپ جانے سے پہلے کوئی ہم میں سے مرگیا۔تو وہ تو اب سے مردم ہو جائے گا۔اگر ترجمہ مکمل ہو جائے اور وہ چھپے نہیں ، تو چھاپنے والا ثواب سے محروم رہ جائے گا۔اور اگر وہ چھپ جائے۔اور لوگ اسے پڑھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔تو ! قیامت تک ہم لوگوں کے لیے یعنی ترجمہ کرنے والے کے لیے ، ترجمہ لکھنے والوں کے لیے چھاپنے اور چھپوانے والوں کے لیے ثواب جارہی رہے گا تھوڑی سی اور چند ماہ کی محنت کا سوال ہے۔اس کے بعد قیامت تک نواب کا رستہ کھلا رہے گا۔ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ثواب کا وہ رستہ ضائع نہ ہو ا ہے سید نا حضور نے تفسیر صغیر کے مسودہ کی کتابت کے لیے جن دو کا تبوں کا انتخاب فرمایا تھا۔ان میں سے ایک کا تب حضرت منشی عبد الحق صاحب کا تب کی عمر اس وقت اسی سال کے لگ بھگ تھی۔اور آپ جوانوں کی طرح محنت نہیں کر سکتے تھے۔لیکن چونکہ حضور کو ان کا خط پسند تھا۔اس لیے حضور نے اپنی سے عربی متن لکھوانے کا فیصلہ کیا۔سید نا حضور کی قوت قدسیہ، توجہ اور دعا کی برکت سے یہ معجزہ دیکھنے میں آیا۔کہ اللہ تعالیٰ نے ہر درد کاتبوں کو غیر معمولی توت عطا کر دی اور انہوں نے نہایت سرعت سے تین ماہ کی مختصر مدت میں کتابت کا کام ختم کر لیا۔کتابت شدہ کا پہیاں اور پر دن پڑھنے کی سعادت بھی مولانا کاپی ریڈنگ اور پروف ریڈنگ وطباعت ابو المنير نور الحق صاحب اور مولوی محمد یعقوب صاحب ظاہر کو حاصل ہوئی۔اور طباعت کا کام مکرم خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے سپرد ہوا۔کیونکہ له الفضل اور مئی ۱۹۵۷ء ص ۲