تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 537 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 537

فصل اوّل تغیر صغیر کی تکمیل و اشاعت اور حیرت انگیز مقبولیت و کی عظیم الشان علمی و دینی برکات میں سر فہرست تغیر صغیر جیسی معرکہ آرا تغیر کی تکمیل دا شاعت ہے۔یہ تغیر سیدنا و امامنا حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود کے زندہ جاوید کار ناموں میں ایک خاص شان رکھتی ہے۔جو رہتی دنیا تک یادگار رہے گی اور اقوام عالم کے ذریعہ ہمیشہ ہی قرآن مجید کے علوم و حقائق اور امرار و معارف کے نا پیدا کنار سمندر سے فیضیاب ہوتے رہیں گے۔اور جب ساری دنیا پر قرآنی حکومت کا پرچم لہرا رہا ہو گا تو تغیر کبیر کی طرح تفی مغیرہ بھی عشاق قرآن کے لیے مشعل راہ کا کام دے گی اور کلام اللہ کے مشرف اور مرتبہ کے شاندار ظہور کا موجب بنتی رہے گی۔سید نا حضرت مصلح موعود کو اپنی عمر کے آخری دور میں سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ حضور کی زندگی میں آپ کے ذریعہ پورے قرآن مجید کا ایک معیاری اور با محاورہ اردو ترجمہ مع مختصر مگر جامع نوٹوں کے شائع ہو جائے۔سفر یورپ 1900 ء سے واپسی کے بعد اگر منہ حضور کی طبیعت اکثر ناسانہ رہتی تھی مگر اللہ تعالی نے اپنے خلیفہ موعود کی روح القدس سے ایسی زبر دست تائید فرمائی کہ آپ نے جون ۱۹۵۶ء میں مری کے پھاڑوں پر ترجمہ قرآن املاء کرانا شروع کیا جو خدا کے فضل سے ۲۵ ر اگست ۱۹۵۶ء کی عصر تک نخلہ میں مکمل ہو گیا۔چنانچہ ڈاکر حشمت اللہ خان صاحب خصوصی معالج سید نا حضرت خلیفۃ المسیح جن کو حضور کی تہمراہی کا اعزاز له الفضل ار ستمبر ۱۹۵۶ امت میں کہ پہلے ذکر آچکا ہے نخلہ وہ ہستی ہے جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خوشاب سے ۲۵ میل آگے پہاڑی سلسلہ میں آباد کی تھی۔