تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 523 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 523

یہ کی ہے جس سے وہ سوسائٹی میں قابل نفرت سمجھا جائے۔پس انتہا درجہ کی مہتک عزت کی جاتی ظاہر ہے “۔شہادت مدعی سے پورے طور پر ثابت ہے کہ جو خبر اخبار نے شائع کی وہ جھوٹ تھی اور کینہ اور بدنیتی پر مبنی تھی۔اور یہ خبر دوسرے اخبارات میں بھی درج کی گئی۔جہاں تک ہرجانہ کی تعداد اور ذمہ داری کا سوال ہے قانون صاف ہے کہ تمام وہ اشخاص جو ایسی خبر کے چھاپنے میں ممد و معاون ہو گیا چھاپنے کی اجازت دیں وہ اس کی اشاعت کے پورے طور پہ ذمہ دار ہوتے ہیں اور انہیں ایسی ڈیفنس دینے کا حق نہیں ہے کہ وہ مضمون کے ہتک آمیز ہونے سے بے خبر تھے یا یہ کہ ان کا ہدیہ معقول اور احتیاط آمیز تھا۔ہرجانہ کی تعداد کے متعلق مسٹر یو لک کی کتاب میں درج ہے۔کہ شریعت آدمی کے لیے اس کی عزت اور شہرت جسمانی سلامتی اور آزادی سے کم قیمت نہیں رکھتی۔جبکہ بعض حالات میں یہ عزت اور شہرت زندگی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہے اس لیے ہرجانہ کی مقدار اس اصول کو مدنظر رکھ کر مقرر ہونی چاہیئے۔گو حالات ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو ہرجانہ کو کم کرنے والے یا زیادہ کرنے والے ا ہوں۔مقدمہ ہذا میں ہرجانہ کو کم کرنے والے حالات مفقود ہیں اور اس کو زیادہ کرنے والے حالات کثیر ہیں ردندا دمیں کوئی بات نہیں پائی جاتی جس سے ثابت ہو کہ مدعاعلیہم کے لیے کوئی دحیہ جواز تھی ان کی بدنیتی نہیں تھی یا انہوں نے کوئی معذرت پیش کی۔یا یہ کہ مدعی کی طرف سے کسی قسم کا سبب پیدا کیا گیا۔بلکہ اس کے بر عکس ظاہر ہے کہ مدعی کے متعلق بدزبانی اختیار کی گئی اور شدید قسم کے الزام لگائے گئے اور دیدہ و دانستہ بدنیتی سے اعلانیہ مدعی کی ہنگ کی گئی۔شہادت سے ثابت ہے کہ مدعی ایک اعلی رتبہ کا آدمی ہے اور ایک با حیثیت گھرانے کا فرد ہے ہتک عزت ایک اخبار کے ذریعہ کی گئی جس کی وسیع اشاعت ہوئی اور یہ اشاعت مستقل قسم کی ہے کہ لائن آف ٹارے مصنفہ رتین لال ص ۱۳ پر حسب ذیل اصول بیان کیے گئے ہیں۔اخبارات پر دہی قاعدہ سے حادی ہیں جو دوسرے تنقید کرنے والوں پر عائد ہوتے ہیں۔اور گو اخبارات کو قدرے وسعت بیان مال ہے خاص حقوقی حاصل نہیں خواہ ان کو کچھ آزادی بھی دی گئی ہو اخبارات کو کوئی حق نہیں کہ غیر موزوں پیارک دیں یا کس شخص کے چلی پر الزامات لگائیں یا اس کے پیٹے پر کوئی الزام عائد کریں۔اخباری تنقید کا دائرہ اسی قدر وسیع ہے جیسا کہ کسی اور مضمون کا اس سے زیادہ نہیں۔گو اخبارات کا فرض ہے کہ وہ اپنے ناظرین کی دلچسپی کے لیے ہرقسم کی خبر شائع کریں۔لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو پبلک کی دلیپسی کا موجب