تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 522
کو اپنے مطالعہ کو وسیع کرنا چاہیئے میں میں میجر تنزل محمد اکبر خان کی کتابیں " حدیث دفاع اور اسلحہ جنگ " بہت محمد ثابت ہوں گی یہ دستخط مرز امحمود احمد اخبارہ پاک کشمیر راولپنڈی نے اپنی ایک اشاعت میں حضرت صاجزادہ ایک جعلی خط اور عدالتی فیصلہ مرزا ناصر احمد صاحب پر نسل تعلیم الاسلام کالی ربوہ کے نام سے ایک مجمل خط شائع کیا یہ اس جھوٹے اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کی ایک کڑی تھا جو ان دنوں مخالف پریس جماعت احمدیہ کے خلاف کر رہا تھا اس وضعی خط کی اشاعت پر اخبار تسنیم (لا ہور) نوائے پاکستان (لاہور) اور کوہستان (لاہور، راولپنڈی) نے بہت زہر اگا۔اس جھوٹے پراپیگنڈہ کے نتائج چونکہ سلسلہ احمدیہ کے لیے سخت نقصان دہ ہو سکتے تھے اس لیے عدالت کی طرف رجوع کیا گیا اور حضرت صاحبزادہ صاحب نے اخبار مذکور کے ایڈمیر اور پرنٹر ویلینٹر کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا دعوی کر دیا جس پر ایڈ منسٹریٹو سول جج صاحب جھنگ نے مقدمہ کا فیصلہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے تی میں دیا اور اخبار پاک کشمیر درا ولپنڈی) پر ۵۲۵۰ رو پہلے کی ڈگری دی اور قرار دیا کہ مدعی اس رقم سے بھی زیادہ ہرجانہ طلب کر سکتا تھا اس منصفانہ فیصلہ کے انگریزی متن کے چند اقتباسات کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔مرزا ناصر احمد ایم۔اسے آکسن پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ۔مدعی بنام مسٹر محمد فیاض عباسی ایڈیٹر و پرنٹر و پیشر اخبار پاک کشمیر را ولپنڈی و مسٹر عنایت الله مدعا علیہم ولد محبوب عالم پر و پر انٹر کو مستان پریس راولپنڈی۔پر دعونی وصولی / ۵۲۵۰ روپیه بابت حرجانہ ازالہ حیثیت عرفی - عوضنی دعوئی اور اخبار پاک کشمیر میں مطبوعہ خط اور اس کے متعلق اخبار مذکور کی مخالفانہ تنقید اور الزامات کا ذکر کر کے عدالت کی مندرجہ ذیل قرار دادیں واضح اور روشن ہیں :۔بیانات مذکور سے ظاہر ہے کہ مدعا علیہم نے مدعی کی تحقیر تو ہین اور تضحیک کی کوشش انتہائی طور ه روزنامه الفضل ، بوه ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۷ء مر۳