تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 514
٤٩٩ بھاگ کر گئی اور اس نے آپ کے دامن کو پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ آپ نے یہ کیا گیا یہ فقرہ بظاہر بے معنی تھا لیکن در حقیقت یہ غلط نہیں تھا بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق باسکل درست تھا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ یا رسول اللہ آپ جیسا و نادار انسان ہم کو یہ صدمہ پہنچانے پر کس طرح راضی ہو گیا پھر اس عورت نے کہا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جب آپ سلامت ہیں تو کسی اور کی موت کی ہمیں کیا پر واہ ہو سکتی ہے تو دیکھو ان لوگوں میں اس قدر اخلاص خوش اور ایمان تھا کہ ہر خدمت جو اسلام اور محمد رسول ل علی اللہ علیہ وسلم کی کرتے تھے اس میں اپنی عزت اور رتبہ محسوس کرتے تھے چنانچہ اسی قسم کی غذائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخ سے ملتی ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ شہداء کو دفن کر کے مدینہ لوٹے تو عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کے لیے نکل آئے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی باگ حضرت سعد بن معاذ نے پکڑی ہوئی تھی اُحد میں انکا ایک بھائی بھی مارا گیا تھا مشہر کے پاس انہیں اپنی بوڑھی ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی ملی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ میری ماں یارسول اللہ میری ماں آپ نے فرمایا۔خدا تعالی کی برکتوں کے ساتھ آئے بُڑھیا آگے بڑھی اور اس نے اپنی کمزور اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آ جا ئے آخر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہو گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایا مائی مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے اس پر اس عورت۔عورت نے کہا یا رسول اللہ میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا ہے تو گویا میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔ایسے موقع پر ہر عورت چاہتی ہے کہ کوئی شخص آئے اور اس سے ہمدردی کرے لیکن اس عورت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمدردی کا اظہار کیا تو اس نے کہا یا رسول الله آپ میرے بیٹے کا کیا ذکر کرتے ہیں آپ سلامت واپس آگئے ہیں تو مجھے کسی چیز کی پر داد نہیں آپ یوں مجھیں کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا ہے۔تو صحابہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جانیں دینا اپنی خوش قسمتی خیال کرتے تھے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کسی کام کے لیے باہر بھیجا۔بعد میں جنگ تبوک کا واقعہ پیش آگیا۔یہ جنگ نہایت خطر ناک تھی۔رومی حکومت اس وقت ایسی ہی طاقتور تھی جیسے آجکل امریکہ اور روس کی حکومتیں ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم کو ایک چھوٹی سی فوج ہے کہ اتنی بڑی حکومت کے مقابلہ میں جانا پڑا۔مدینہ میں بہت تھوڑے مسلمان تھے اور اردگرد کے لوگ بھی اکٹھے نہیں تھے لیکن اگر وہ اکٹھے ہوتے بھی تو قیصر روما کے مقابلہ میں اُن کی کوئی حیثیت نہ تھی۔اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم