تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 512 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 512

کیا تھا اب اللہ تعالی کے فیصلہ کے ماتحت آپ کے سپرد کی گئی ہے۔میں طرح دنیا کی حالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی اسی طرح اس زمانہ میں بھی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی زمین و آسمان اور پہاڑوں نے آپ کی تعلیم کا حامل بننے سے بڑی گھرا ہٹ کا اظہارہ کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی ہو جو مجھ آپ لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے اس کے متعلق کوئی بیوقوف ہی دھومی کے ساتھ کہ سکتا ہے کہ کہیں اسے اٹھاؤں گا۔ہاں سمجھدار اور عقلمند انسان انشاء اند کہ کہا اور ڈرتے ہوئے دل کے ساتھ کہتا ہے کہ میں اسے اٹھاتا ہوں کیونکہ بغیر اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس بوجھ کے اٹھانے کی توفیق دے اور مدد کرے میں خود اسے نہیں اٹھا سکتا۔زمین و آسمان کے باشندے اپنی طاقت سے نہ تو اس بوجھ کو پہلے اٹھا سکتے تھے اور نہ اپنی طاقت سے اب اٹھا سکتے ہیں۔دیکھ لو مسلمانوں نے کچھ عرصہ کی جدوجہد کے بعد کس طرح اس بوجھ سے آزاد ہونے کی کوشش کی اس حالت کا خطرہ اب آپ لوگوں کے لیے بھی ہے۔یا د رکھو دلہن ہمیشہ دولہا کے گھر ہی لیا کرتی ہے ہمسایہ کے گھر نہیں بسا کر تی یا یوں کہو کہ دولہا کے گھر دلہن ہیں بسا کرتی ہے بہائی نہیں بس کرتی۔بیوت الذکر کا کام تمہاری دلہن ہے اور اس نے ہمارے ہی گھر آنا ہے کیسی اور کے گھر نہیں جانا۔یہ ہماری بے غیرتی ہوئی کہ یہ کام کسی اور کے گھر چلا جائے حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں آسمانی بادشاہت کو دلہن سے تشبیہ دی ہے۔رمتی باب ۳۵) مگر عیسائیوں نے تو غفلت سے کام اور چرچ کو شیطان کے سپرد کر دیا۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ دلہن کو دولہا کے سوا کسی اور کے سپر د کر دیا۔لیکن سہارا کام یہ ہے کہ ہم بیوت الذکر کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے لیے آباد رکھیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لائے ہوئے مشن کو آپ ۱۹۰۰ ء سال تک لے جائیں تو کم سے کم اتناتو ہو سکتا ہے کہ آپ عیسائیوں کے سامنے مراٹھا سکیں لیکن فخر اس بات میں ہے کہ آپ تبلیغ کے کام کو قیامت تک جاری رکھیں اس میں کوئی کمزوری نہ آنے دیں ہیں آپ لوگ اپنی ذمہ دار می کرد سمجھیں محنت کریں اور اپنے خرمن کو پوری طرح ادا کریں اور یاد رکھیں کہ اس فرض کا ادرا کر نا مصیبت نہیں بلکہ سلہ اصل نظریہ میں مساجد کا لفظ ہے