تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 511
۴۹۶ ربوہ نے نعرہ ہائے تکبیر۔اسلام زندہ باد انڈونیشیا اور پاکستان پائندہ باد کے پر جوش نعروں کے ساتھ آپ کو الوداع کہا۔اور جوں جوں ہجوم میں سے کار گزرتی گئی۔یہ مغرے اور زیادہ بلند ہوتے گئے۔سفیر محترم اور ان کی بیگم صاحبہ ہاتھ ہلا ہلا کہ جواب دیتے رہے۔بالاآخر پونے سات بجے سفیر محترم خیر سگالی و خلوص کے نیک اثرات سے کہ ربوہ سے لاہور روانہ ہو گئے لیلے اکتولی ۱۹۵۷ ء میں مرکز احمدیت ربوہ کے اندر جوم خلائق کا مرکز من نجوم خلائق کا شاندار قرار دیتے ہیں یا کیونکہ اس کے دوران تینوں مرکزی تنظیموں کے کامیاب اجتماعات منعقد ہوئے۔اجتماع خدام الاحمدیہ واطفال الاحمدیہ (۱ تا ۱۳ اکتوبیر) اجتماع لجنہ اماء الهند ۱ تا ۳ اکتوبی ) اجتماع انصار الله (۲۶٫۲۵ اکتوبر) - اجتماع خدام الاحمدیہ واطفال الاحمدیہ میں ایک سو چودہ مجالس کے ۱۷۴۴ را اطفال و خدام نے شرکت کی یہ اجتماع لجنہ اماءاللہ میں ربوہ کی مقامی خواتین کے علاوہ پاکستان اور بیرون پاکستان کی تیس کے قریب لجنات کی متعد در نمبرات شامل ہوئیں لیے اور انصار الله کے اجتماع میں ۱۴: مجالس کے ۲۶۰ نمائندے ۵۰۲ ارکان اور ۱۰۱۰ زائرین شامل ہوئے لیکے ستبرنا حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی نے علالت طبع کے باوجود تینوں اجتماعات سے خطاب فرمایا :- سید نا حضرت مصلح موعود نے خدام احمدیت کو مخاطب کرتے خدام احمدیت روح پرور خطاب ہوئے ارشاد فرمایا کہ الہ تعالی نے اس زمانہ میں دین کی خدمت کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد کیا ہے اور یہ کام اتناعظیم الشان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی امانت آسمانوں زمینوں اور پہاڑوں کے سپرد کرنی چاہی مگر انہوں نے اس کے اٹھانے سے بڑی گھراہٹ کا اظہار کیا (احزاب ع ۹) اس جگہ "امین" کے معنی محض انکار کے نہیں بلکہ ایسی گھیرا ہٹ کے ہیں جس میں اگر انسان کی اپنی مرضی کا دخل ہو تو وہ ضرور انکار کردے غرض وہی چیز جس کے اُٹھا نے سے زمین و آسمان اور پہاڑوں نے بڑی گھبراہٹ کا اظہار له اختبار النفضل ۲۸ ستمبر ۱۹۵۷د مرد : له الفضل دار اكتوبر ۱۹۵۷ء طب له الفضل ، اکتوبر ما به الفضل ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۷ توصله