تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 507 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 507

۴۹۳ اور اپنے معاملات کو خود ہی طے کرنے میں کئی خود مختار ہوں انہوں نے آپ لوگوں کا پورا پورا ہاتھ بنایا۔ان محترم ہمارے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ انڈونیشیا میں ہمارے رئیس التبلیغ سید شاہ محمد صاحب بھی مختصر قیام کے لیے آج کل یہاں آئے ہوئے ہیں اور وہ اس وقت ہمارے درمیاں موجود ہیں۔انڈونیشیا کی جدوجہد آزادی میں مکرم شاہ صاحب نے جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ہمیشہ یاد گار رہیں گی۔اور مستقبل کا مؤرخ ان کی خدمات کو کسی صورت فراموش نہ کرتے ہوئے اعتراف سے پیچھے اور پر خلوص جد ہے کے ساتھ ان کا ذکر نے میں ایک خوشی محسوس کرے گا۔مکرم شاہ صاحب نے اہل انڈونیشیا کے پر تعظیم اور بیت بھر سے دلوں میں ہمیشہ ہمیش کے لیے گھر کر لیا ہے۔جدوجہد آزادی کے تارین کے ساتھ ان کے گہرے اور قریبی تعلقات تھے اور کیوں نہ ہوتے جب کہ یہ ان کی قومی امنگوں میں برابر کے شریک تھے دیگر احمدی احباب کی مدد سے انہوں نے جمہوریہ انڈونیشیا کے مؤقف کے برحق اور مبنی یہ انصاف ہونے کے حق میں عالمی رائے عامہ کو استوار کرنے میں نمایاں خدمات سر انجام دیں۔اور خدمات کے اس سلسلہ کو ولندیزیوں کی واپسی اور دوبارہ قبضہ کے پر آشوب زمانے میں بھی منقطع ہونے نہیں دیا مکریم شاہ صاحب اس کمیٹی کے رکن تھے جو اقوام متحدہ کے فیصلے کی تعمیل میں ولندیزی نوجوں کی واپسی کے بعد جمہوریہ کے از سر تو قیام کے لیے بنائی گئی تھی۔اسی طرح یہ اس استقبالیہ کمیٹی کے بھی رکن تھے جو ولندیزیوں کے قبضہ کے دوران صدر سوئیکارنو کی رہائی کے وقت ان کے شایان شان استقبال کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔اس وقت یہ اکیلے ہی وہ غیر انڈونیشی فرد تھے۔جنہیں انتقال اقتدار کے وقت جمہور یہ ریاست ہائے متحدہ انڈونیشیا کے نئے دارالحکومت جکارنہ تک صدر سوئیکارنو کی ہمرکابی کا امتیاز حاصل ہوا۔حصول آزادی کی تاریخی بدرجہد میں ان تمام کارناموں کے ساتھ ساتھ مکریم شاہ صاحب موصوف نے ایک اور اہم خدمت بھی سر انجام دی اور وہ یہ معنی کہ یہ انڈو نیشیا کے احمدی احباب میں جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں برا یہ یہ جذبہ پیدا کرنے میں مصروف رہے کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کو جسے ہر شعبہ زندگی میں نظم وضبط کے اساسی معیار کی حیثیت حاصل ہے ملک میں زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اس کے زیہ اٹلہ عالمی اداروں میں انڈونیشیاء زیادہ در قیع اور زیادہ مؤخر کر دار ادا کرنے میں کامیاب ہو سکے۔اسی طرح ہماری جماعت کے دوسرے ممبران نے بھی انڈو نیشیار کی حکومت اور اس کے ابنائے وطن کی بیش بہا خدمات سر انجام دی ہیں۔عزت تاب! ہم آپ کی تشریف آوری پر آپ کے بے حد ممنون ہیں اور آپ سے پر خلوص طور پر التجا