تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 506
کا ایک اعلی معیار دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔آج یہاں سے وہ عظیم الشان سوتے پھوٹ رہے ہیں کہ جن سے دنیا کا کونہ کو نہ سیراب ہورہا ہے۔مبلغین کی آمد ورفت کا ایک سلسلہ جاری ہے جو دور دراز ممالک میں جا جا کہ دین حق کا پیغام پھیلانے میں ہمہ تن مصروف ہیں چنانچہ مشرقی و مغربی افریقہ کے دور دراز علاقوں مشرق وسطی کے ممالک نیز سنگا پور اور انڈو نیشیا کے علاوہ انگلستان، ہالینڈ، مغربی جرمنی، سوئٹزر لینڈ، سکنڈے نیویا ، سپین ، اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی ہمارے باقاعدہ تبلیغی مشن قائم ہیں ان ممالک کے نو مسلموں میں ایک خاصی تعداد ایسے دردمند نوجوانوں کی ہے جنہوں نے خدمت اسلام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر کھی ہیں۔اور وہ ربوہ میں تعلیم حاصل کرنیکے بد آجکل خود اپنے ملکوں اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں با قاعدہ مبلغین کی حیثیت سے تبلیغ کا فریضہ ادا کہ رہے ہیں۔افریقہ میں ہمارے اپنے اسکول اور مدارس ہیں۔لندن بیگ بہیمبرگ ، ڈیٹن ، اور اسی طرح مشرقی اور مغربی افریقہ کے اہم شہروں میں ہوت الذکرہ تعمیر کرنے کی سعادت ہمارے حصے میں آچکی ہے۔اور ان میں سے اکثر مشنوں کی طرف سے باقاعدہ رسائل و اختبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔جن کے ذریعہ مختلف ممالک کے لوگوں کو اسلام کی بیش بہا اور لازوال تعلیمات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔خود انڈونیشیا کے احمدی مشن کی طرف سے بھی اس وقت سینار اسلام کے نام سے ایک اخبار شائع ہو رہا ہے۔ہم نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم بھی شائع کیسے ہیں۔اب تک انگریزی دلندیزی ، جرمن اور سواحیلی زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں۔علاوہ ازیں بہت سی دیگر زبانوں میں تراجم شائع کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔خود انڈو نیشی زبان میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ ہو چکا ہے اور آج کل اس پر نظرثانی کی جارہی ہے امید ہے نظر ثانی کا کام عنقریب مکمل ہو جائے گا۔ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ انڈو نیشیا میں ہمارے مبلغین نے صحیح دینی روح کے مطابق ہمیشہ اپنے آپ کو اہل انڈونیشیا اور ان کی قسمت کے ساتھ وابستہ کیے رکھا۔انڈونیشیا پر جاپانیوں کے قبضے کے دوران دہ اپنے انڈونیشی بھائیوں کے ساتھ ہر دکھ اور ہر تکلیف میں برابہ کے مشریک رہے۔اور انہوں نے بڑی جرات اور جواں مردی سے ان کے دوش بدوش ہر مشکل کا مقابلہ کیا اس قبضہ کے ساتھ ساتھ ہی جدوجہد آزادی کا دور شروع ہوا جس کا مقصد استعماری طاقتوں کی واپسی کو ناکام بنانا تھا۔اس وقت بھی بنا رہے مبلغوں نے دل و جان سے آپ لوگوں کا ساتھ دیا اور اس طرح کہ آپ لوگ اپنی قسمت کے خود مالک جو اس