تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 499
۴۸۴ اور محافظوں نے باوجود ہمارے اصرار کے نہیں کھولی صرف معین وقت پر کھلتی ہے مجبوراً چار دیواری کے باسر سے دعا کر کے ہم لوٹ آئے۔گے۔۔۔آج ان تمام زیا دتوں سے فارغ ہو کر بذریعہ ہوائی جہاز ہم پر ۲ بجے جدہ واپس پہنچ گئے۔ہوائی نماز سے قریباً ایک گھنٹہ کا سفر ہے اب کل انشاء اللہ لبنان میں دوبارہ داخلہ کا ویزا اور سعودی عرب سے باہر نکلنے کا اجازت نامہ لینا ہے۔اور انشاء اللہ ۳۰ کی صبح کو 4 بجے لبنان کی ایٹر سر دس سے بیرت نہ جائیں کوشش یہ ہے کہ اس کو سیدھے زیورچ سوئٹزرلینڈ چلے جائیں یہاں پر دگرام کیمطابق کو واپسی نہیں ہو سکی اس لیے ایتھنز کا پروگرام مجبورا چھوڑ دیا اس کے لیے سروس بھی نہیں مل رہی تھی۔اب انشاء اللہ بیروت سے سیدھے سوٹزر لینڈ جانے کا پروگرام ہے ارادہ ہے کہ انشاء اللہ ایک غیریت کی تارہ آپ کو بیروت سے بھی بھجوا دوں تا کہ عمرہ اور زیارت مدینہ کی خوش کنی اطلاع آپ کو مل سکے۔امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔طبیعت میں فکریہ ہتا ہے اللہ تعالیٰ سب کو اپنی امان اور حفاظت میں رکھے۔قیوم سلام کہتی ہیں۔اماں کو ایک پوسٹ کارڈ میں نے طہران سے لکھا تھا۔انہیں ہماری خیریت کی اطلاع دے دیں لیے مرزا مظفر احمد ستمبر ۱۹۵۷ ء کے تیسرے ہفتہ میں انڈونیشیا کے سفیر الحاج ڈاکٹر ربوہ میں سفر انڈونیشیا کی آمد محمد شیدی ربوہ تشریف لائے۔آپ بیرونی ممالک کے پہلے سفیر تھے جو مرکز احمدیت کی زیارت کے لیے آئے۔سفیر انڈونیشیا کا قیام ربوہ بہت مختصر مھاجس کے دوران انہوں نے حضرت امام جماعت احمدیہ سے مشرف طاقات حاصل کیا۔سلسلہ احمدیہ کے انتظامی اور تعلیمی ادارے دیکھے اور اہل ربوہ اور وکالت تبشیر کی استقبالیہ تقاریب سے خطاب فرمایا۔آپ ۲۱ ستمبر کو پا 4 بجے شام اپنی بیگم اور بچوں کے ہمراہ لاہور سے بذریعہ کارہ ربوہ پہنچے۔مکرم وہ بدر می اسد اللہ خان صاحب بیرسٹرا در جماعت احمدیہ لاہور کے چند دوسرے ارکان اور مکرم مولوی ابو یہ به روزنامه الفضل در بوه ۷ ار ستمبر ۶۱۹۵۷ صفحه ۵٫۴٫۳