تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 495
راستہ میں اور کوئی خبر گیری وغیرہ نہیں کی مسافر اپنے حال میں تھے اور شاید جہاز میں ہوا کے دباؤ کے کنٹرول کا انتظام بھی نہ تھا۔کیونکہ مجھے تو کانوں میں تکلیف بھی ہو گئی جہانہ راستہ میں ڈولتا بھی بہت رہا اور اکثر وقت ہم نے بیٹی باندھ کر رکھی۔غیر شکر کیا کہ یہ پراہم گھنٹے کا سفر ختم ہوا۔ہوائی اڈہ پر بھی کام اناڑیوں کے ہاتھوں میں تھا خدا کرے کہ آئندہ اس سروس میں بہتری کی صورت پیدا ہو کیونکہ عالم اسلامی کا مرکز ہے اور ہماری نیک خواہشات اور دلی دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔شام کے پانچ بجے جدہ پہنچے۔یہاں کے حالات کے مد نظر یاں کے ایک بہترین ہوٹل میں بھڑے۔ہوٹل بہت شاندار تھا لیکن غفلت کی حالت میں چھوڑا ہوا نظر آتا تھا گو غیر ضروری طور پر قیمتی سامان سے آراستہ تھا۔سُنا ہے کہ اس پر دس لاکھ پونڈر ڈیڈ کروڑ روپیہ خرچ کیا گیا ہے اور سارا سامان فرینچر تک غیر ملکوں سے منگوایا گیا ہے۔حج کے دنوں میں بہت رش ہوتا ہے۔اس وقت تو ہم گنتی کے دن یا پنڈدارہ مہمان ہوں گے۔یہاں کی سفارت پاکستان سے ضروری اعداد ملتی رہی۔کیونکہ پولیس رجبر کر وانے کے علاوہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے لیے علیحدہ راہ داری لینی پڑتی ہے۔محترم خواجہ شہاب الدین صاحب سفیر پاکستان مقیم جدہ سے بھی جا کہ ملا۔اچھی طرح پیش آئے اور اپنے ماتحت کو انتظامات کرانے کے لیے ہدایات دیں۔مجھے کھانے پر بھی بلایا۔لیکن چونکہ اس روز میں نے مکہ مکرمہ جانا تھا لیکں نے شکریہ کے ساتھ معذوری کا اظہار کر دیا۔۲۰ کا سارا دن میرا انتظامات کی تکمیل میں لگ گیا۔موسم بے حد خراب تھا۔۔۔۔۔اور بلا کی گرمی پڑتی ہے جس کے ساتھ میں بھی ایسا کہ الاماں اور گھٹاؤ بہت رہتا تھا اور کچھ سعودی عریبیا کے ہوائی سروسز کے تجربہ کے بعد اور کچھ مزید برآں کہ ۲۹ کی واپسی کا وہ ذمہ نہیں اٹھاتے تھے اور کہتے تھے کہ دینگ لسٹ پر رہو اس لیے مجبوراً ۲۰ کو لبنان کی ایر سروس سے واپسی کا انتظام کیا میں کی وجہ سے خرچ بھی زائد ہوا کیونکہ اس سروس میں صرف فرسٹ کلاس کے ٹکٹ ملتے تھے اس لیے زائد کرا یہ دینا پڑا۔ابھی تک سعودی عرب آنے میں آسانی سے جگہ ملتی ہے لیکن حاجیوں کے لیے ایش کی وجہ سے نکلنے میں تنگی بدستور ہے۔ان انتظامات کی تکمیل کے بعد ۲۶ کو نمازہ مغرب کے بعد ہم ٹیکسی میں جدہ سے مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوئے۔احرام میں نے ہوٹل سے ہی باندھ لیا تھا۔جدہ سے مکہ معظمہ ۷۳ کلومیٹر کے فاصلہ