تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 487 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 487

کسی کونہ میں چھپ کر بیٹھ گیا اور اسطرح امریکہ پہنچ گیا۔یہاں اگر میں نے یہ دہریوں والی تحریک جاری کی ہر نیکہ حضرت ابراہیم ، در حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی کو غلط شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رؤیا کا یہ مطلب تھا کہ آپ اپنی مرضی سے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ دادی مکہ ایکے آپ گیاہ جنگل ہے اور وہاں کھانے پینے کو کچھ نہیں ملتا۔اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ آئیں۔چنانچہ آپنے ایسا ہی کیا۔یجب حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو آپ نے اپنی نیکی اور تقومی کے ساتھ اپنے گرد لوگوں کا ایک گروہ جمع کر لیا اور انہیں نماز اور زکواۃ اور صدقہ و خیرات کی تحریک کر کے اور اس طرح عمرہ اور حج کے طریق کو جاری کر کے آپ نے ملکہ کو آباد کرنا شروع کیا۔چنانچہ ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں صدیوں سے نکہ آباد چلا آتا ہے۔قریبا تین ہزار سال سے برا یہ خانہ کعبہ آبا د ہے اور اس کا طواعت اور حج کیا جاتا ہے پس عیدالا صفحہ کی قربانی بے شک اس قربانی کی یاد دلاتی ہے۔مگر اس قربانی کی یا دنہیں دلائی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ظاہری شکل میں حضرت اسمعیل علیہ السّلام کی گردن پر چھری پھیر دی۔در حقیقت قربانیوں کی عید ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم خدا کی خاطر اور اس کے بعد دین کے لیے جنگلوں میں جائیں اور وہاں جا کر خدا تعالیٰ کے نام کو بند کریں اور لوگوں سے اس کے رسول کا کلمہ پڑھوائیں جیسا کہ ہمارے صوفیاء کرام کرتے چلے آئے ہیں۔اگر ہم ایسا کریں تویقینا ہماری قربانی حضرت اسمعیل کی قربانی کے مشابہ ہو گی۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ قربانی با کل حضرت اسمعیل کی قربانی کی طرح ہو جائے گی کیونکہ دلوں کی کیفیت مختلف ہوتی ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دل کی حالت اور بھی اور ہمارے زمانہ کے لوگوں کی دلوں کی حالت اور ہے۔مگر بہر حال وہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ ضرور ہو جائے گا۔پس تم اپنے آپ کو اس قربانی کے لیے پیش کر د میرے نزدیک اس زمانہ میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مثلا به قربانی وہ مبلغ کہ رہے ہیں جو مشرقی اور مغربی افریقہ میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔وہ غیر آباد ملک ہیں جن میں کوئی شخص خدا تعالٰی اور اس کے رسول کا نام نہیں جانتا تھا۔لیکن ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر انہیں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام بتایا۔۔۔۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے نوجوان افریقہ کے جنگلات میں بھی کام کر رہے ہیں مگر میرا خیال یہ ہے کہ اس ملک میں بھی اس طریق کو جاری " کیا جا سکتا ہے چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں مین کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس