تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 485
ہے کہ حل و ضلع کوہاٹ۔پاکستان) کے مقام پر ایک احمدی ڈاکٹر محمد احمد کو مذہبی اختلاف کے باعث بندوق کا نشانہ بنا دیا گیا۔موجودہ جمہوری دور میں جبکہ اصولاً ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ مذہبی یا سیاسی ) عنبر سے اپنے جو خیالات چاہے رکھے۔پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ کیا جا رہا یہ سلوک انتہائی افسوسناک ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کا مستقبل بہت تاریک ہے۔بند دستان میں گو سلمان احساس کمتری میں مبتلا میں ہی کی ذمہ داری پاکستان کے قیام پر ہے مگریہ واقعہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر شخص کو مذہبی اعتبار سے مکمل آزادی حاصل ہے۔کوئی شخص کسی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا اور احمدیوں کو بھی ہمارے ملک میں اپنی مذہبی تبلیغ کی پوری آزادی حاصل ہے مگر پاکستان میں نہ مہند و محفوظ ہیں نہ سکھ اور نہ عیسائی اور احمدی تو مسلمان ہوتے ہوئے بھی واجب قتل قرار دیئے جاتے ہیں۔پاکستان کے احمدیوں کا مسئلہ اس قابل نہیں کہ اس کو نظر انداز کیا جاسکے۔چنانچہ احمدیوں کے ان حالات میں پاکستان گورنمنٹ کے لیے صرف دو صورتیں ہیں یا تو احمدیوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر ان کو اپنی ایک الگ اسٹیٹ دی جائے جہاں کہ یہ امن اور اطمینان کے ساتھ رہ سکیں۔ان کا مذہبی تعصب کا شکار ہوتے چلے جانا انسانیت پرست حلقوں میں برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے " حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے اپنے خطبہ جمعہ ۱۳۰ اپریل ۱۹۹ ء میں ان کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیوی نے کس طرح کمال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکی نعش علاقہ غیر سے حاصل کی اور ربوہ لے آئیں“۔سے ہفت روزہ ریاست دیلی در جولائی ۱۹۵۷ء صبا کالم ۴۳