تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 481 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 481

MYY الی مرکز بیت، باہمی اتحاد و اخوت اور اسلام کی سربلندی کی شکل میں خلافت کی جن عظیم الشان برکات کا انہوں نے قدم قدم پر مشاہدہ کیا ہے ان کا سلسلہ ہمیشہ ہمیش جاری رہے گا۔صاحب صدر کی اقتداء میں شمع خلافت کے پروانوں نے عہد کے الفاظ دہرا کر اپنے عزم کا اظہار کیا خلافت کے ساتھ والہانہ محبت و عقیدت کا یہ منظر دیکھنے کے لائق تھا۔بہت مبارک ہزاروں قلوب کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی نیچر سبورش آدانہ وں سے گونج رہی تھی لیے ۲۹ رمئی ۱۹۵۷ء کو مومن پورہ راولپنڈی ایک مکتوب اور حضرت مصلح موعود کا مختصر جو کے ایک غیر احمدی دوست چوہدری حمد اسماعیل صاحب نے حضور کے معرکہ آراء تالیف اسلام اور ملکیت زمین سے متعلق چند استفسارات کیسے لگے سیدناحضرت مصلح موعود کی علالت اور گوناگوں مصروفیات تفصیلی جواب میں مانع نہیں البتہ یہ ممکن تھا کہ مختصر مگر اصولی رنگ میں صاحب مکتوب کے شبہات کا ازالہ کر دیا جائے چنانچہ حضور نے اسی نقطہ نگاہ سے حسب ذیل جواب ارشاد فرمایا جو اختصار اور جامعیت کا مرقع تھا اور ایک طالب حق کی تسلی کے لیے کافی تھا :۔یں نے اپنی کتاب میں روائتیں لکھ دی ہیں آپ اصل کتا میں دیکھ لیں۔اگر وہ روائتیں جھوٹی ہیں تو ان کو رد کر دیں اور اگر سچی ہیں تو جن لوگوں نے وہ باتیں کہی ہیں اُن کا انکار کر دیں۔لیکن آپ میرا مطلب نہیں سمجھے میں نے تو صاف لکھا ہے کہ جاگیر داری اسلام میں جائزہ نہیں باقی رہا یہ کہ گورنمنٹ نے جو زمین کسی وقت بیچی ہو اس کو بلا معاوضہ یا کم معاوضہ پر لینا فریب یا دھوکہ دہی ہے۔اگر زمین کی دوسی قیمت تھی جس پر گورنمنٹ واپس لینا چاہتی ہے تو اس نے بیچتے وقت اس کی قیمت زیادہ کیوں دی ؟ مگر اس کی قیمت جیب گورنمنٹ بیچ رہی تھی زیادہ تھی تو اب کس طرح جائزہ ہو گیا کہ ان کو تھوڑی قیمت پر واپس لے لیں۔اس کتاب سے تو میرا مطلب صرف یہ تھا کہ اگر گورنمنٹ کسی شخص کو زیادہ مقدار میں له الفضل ، ۲ مئی ۱۹۵۷ء ص : سے (مطبوعہ) خط و کتابت (منجانب چوہدری محمد اسماعیل صاحب) صفحه ۱۹ - ۲۴