تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 480
۴۶۵ اور اسلام پھیل جائیں تو ہماری عید میں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔پس کوشش یہی کرد - کہ اسلام کی اشاعت ہو۔قرآن کی اشاعت ہو۔تا کہ ہماری عید این محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہوں ہے ۲۷ رمئی ۱۹۵۷ ء کو جماعت احمدیہ کی طرف سے دنیا بھر میں پورے ربوہ میں پہلا یوم خلافت جوش و خروش کے ساتھ یوم خلافت منایا گیا۔مرکز احمدیت بود و میں اس روز بیت المبارک میں مولانا ابوالعطاء صاحب پرنسپل جامعتہ المبہترین کی زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جو صبح ، بجے سے گیارہ بجے قبل دو پر تک جاری رہا۔فاضل مقررین نے اپنی تقاریر میں خلافت کے ہر پہل کو قرآن مجید، احادیث نبوی حضرمسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی تخریبات اور مضر نیند اول کی تصریحات کی روشنی میں نہایت خوبی سے واضح کیا اور بتایا کہ انوار نبوت کو جاری رکھنے کے لیے خلافت کو قائم رکھنا اور اس کے شایانِ شان اعمال بجالانا نہایت ضروری ہے۔مقررین نے حسب وصیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خلافت احمدیہ کے قیام داستحکام اور اس کے بالمقابل منکرین خلافت کی ریشہ دوانیوں اور ان کے حسرت ناک انجام پر بھی روشنی ڈالی۔نیز حضرت خلیفہ اسیح الاول نے جس عزیمت اور جلالت شان کے ساتھ جماعت میں خلافت کے نظام کی بنیاد رکھی۔اس کو بھی واضح کیا۔اور مچھر سیدناحضرت المصلح الموعود الودود کی خلافت کے دور میں نظام خلافت کے طفیل جو عظیم انشان برکات نازل ہوئیں اور اطراف و جوانب عالم میں دین کو تمکنت نصیب ہوئی اور اسلام کی سر بلندی کے سامان پیدا ہوئے اور جنہیں حضور کے وجود یا جود کی برکات سے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اُن کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔حاضرین نے نظام خلافت کی ضرورت د اہمیت اور اس کی عظیم الشان برکات کے موضوعات پر علماء سلسلہ کی ایمان افروز تقاریرہ سکنے کے بعد ایک نئے جوش اور نئے مریم کے ساتھ اپنے اس مقدس عہد کو دہرایا کہ وہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے خلافت حقہ کے آسمانی نظام کے ساتھ ہمیشہ والبستہ رہیں گے اور نسلاً بعد نسل اس نظام کو قیامت تک جاری رکھتے چلے جائیں گئے تا تائید و نصرت را خطبات محمود عبدا مش ۳۲ ، ناشر فضل عمر فاؤنڈیشن ریوہ۔نوائے وقت پرنٹر لمیٹڈ لاہور