تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 479
۲۶۴ مہتہ صاحب کو مغربی پاکستان میں بھی بیش بہا معد نیات کی دریافت نہیں کامیابی ہوئی جن میں ایک بیر علیم (BERYLLIUM) ہے جو کہ نیو کلائی (Neuclear) دھات ہے جس کی تلاش اور تقرت میں دنیا بھر کی حکومتیں مصروف کار ہیں اسی طرح زیرکونیم (ZIR CORIUM) بھی دفاعی اور نیو کلائی صنعتوں کے لیے بہت اہم اور دنیا کا ایک کمیاب اور قیمتی جوہر ہے۔مہتہ صاحب نے ملک میں اس کے ذخائر کا سراغ لگایا اور اس کی موجودگی اور اس کے درجہ کی طرف پاکستان اتابک کمیشن کی توجہ بھی مبذول کرائی مہتہ صاحب بہت وثوق سے کہتے ہیں کہ پاکستان میں بر علیم اور زیرکونیم کے حصول کے قومی امکانات ہیں اور یہ کام بہت کم لاگت سے کیا جا سکتا ہے سلے ۲ رمئی ۱۹۵۷ء کو عید الفظر متھی۔حضرت مصلح موعود نے اس تقریب پر خطبہ عید الفطر کا پر معارف خطبہ پر ایک منتر گر کر معارف منکہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔| میں دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری عید دراصل وہی ہو سکتی ہے۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عید ہو۔اگر ہم تو عید منائیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید نہ منائیں تو ہماری عید قطعاً عید نہیں کہلا سکتی۔بلکہ وہ ماتم ہو گا۔جیسے کسی گھر میں کوئی لاش پڑی ہوئی ہو۔ان کا کوئی بڑا آدمی فوت ہو گیا ہو۔تو لاکھ عید کا چاند نکلے ان کے لیے عید کا دن ماتم کا ہی دن ہو گا۔اس طرح ایک مسلمان کے لیے چاہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پہ ۳۰۰ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔اگر اس کی عید میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہیں اور اگر وہ اس ظاہری عید یہ مطمئن ہو جاتا ہے تو اس کی عید کسی کام کی نہیں۔بے شک اس دن خدا تعالیٰ نے ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا ہے اور ہم خوشی منانے پر مجبور ہوتے ہیں۔لیکن پھر بھی ہمارے داد) کو چاہیئے۔کہ وہ روتے رہیں۔کہ ابھی مستند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی عید نہیں آئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی عید سویاں کھانے سے نہیں آتی۔نہ شیر فرما کھانے سے آتی ہے۔بلکہ ان کی عید قرآن اور اسلام کے پھیلنے سے آتی ہے۔اگر قرآن VIEWPOINT, OCTOBER 15۔, 1987 P:27-31 (RAWAL PIN Dijd