تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 478 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 478

اس زمانہ میں مشرقی پاکستان میں سیمنٹ کا صرف ایک کارخانہ تھا جو اپنے خام مال یعنی چونے کے پتر (LIME STONE) کے لیے بھارت کا دست نگر تھا ان سنگین حالات میں جب مہتہ عبد الخالق صاحب کی جناب حسین شہید سہروردی وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات ہوئی تو جناب سہروردی صاحب نے بہتہ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔اگر آپ مجھے مشرقی پاکستان میں کہیں بھی لائم اس ڈون تلاش کر دیں تو یہ آپ کا عظیم کارنامہ ہو گا چنانچہ خدا کے فضل سے چند ماہ کے اندر ہی مہتہ صاحب مشرقی پاکستان کی حدود میں چونے کا پتھر دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔جناب سہر وردی صاحب کی خدمت میں حب اس انگشت کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے مبارکباد دی۔آپ نے مراسلہ دینام مہتہ صاحب نمبر 57 PM - 630 کراچی مورخہ ہار اپریل 1906ء میں) لکھا کہ سلمٹ اور مین سنگھ میں آپ کی طرف سے لائم اسٹون کے انکشافات سے مجھے بہت ہی دلچسپی ہوئی اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو اگر واقعی حقیقت میں لائم اسٹون مل جائے تو یہ مشرقی پاکستان کی قسمت کو بدل دے گا۔اس کے بعد انہوں نے بہت سی تحقیق و تفتیش کے بعد جناب عطاء الرحمن صاحب وزیرا علی مشرقی پاکستان کو ایک جیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی چنانچہ لکھا کہ مہتہ عبدالخالق صاحب نے لائم اسٹون کی تلاش اور موجودگی سے سلسلہ میں جو رپورٹ پیش کی ہے میں نے اس کی بہت ہی باریک چھان بین کی ہے اور میرے نزدیک اُن کی دریافت جو کہ سیمنٹ بنانے میں بہت کارآمد ہوسکتی ہے ہمارے لیے بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔مہتہ صاحب نے اعلیٰ قسم کے ٹائم اسٹون کی دریافت کے علاوہ اعلیٰ قسم کے کثیر المقدا کوٹلہ کے ذخائر کی بھی نشاندہی کی اول الذکر سے حکومت مشرقی پاکستان اور پھر بنگلہ دیں حکومت نے بھر پور فائدہ اٹھایا جبکہ کوٹلہ کے ذخائہ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت مشرقی پاکستان کے عہد میں مشیر معدنیات کا عہدہ صرف مہتہ صاحب تک محدود رہا۔(بقیہ حلیہ میں سے آگے نارا کی پلیٹ بلڈنگ شکاگو در یونانی سیٹی امریکی نظرثانی شده ی این ۶۱۹۵۴