تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 472 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 472

۴۵۷ سے بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔کہ جو خرچ ہم نے وہاں بھیجنا ہو تا ہے وہ پنچ جاتا ہے اور ہم اسی کو غنیمت سمجھتے ہیں۔تا یہ اعتراض نہ ہو کہ چندہ ہم دیتے ہیں اور پاکستانی کھا جاتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایمان میں اتنے مضبوط ہو جائیں کہ پاکستانیوں سے کہیں کہ ایک پیسہ چندہ بھی نہ دو ہم وہاں روپیہ بھیجیں گے اُس دن کا جب خود ان کی طرف سے یہ تحریک ہو۔ہم انتظار کر رہے ہیں۔مگر جب تک وہ دن نہیں آتا ہمیں خوشی سے یہ خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔اور نہیں خوشی سے یہ بات منظور کرنا پڑے گی۔که مبلغ ہم بھیجتے رہیں اور اُن کا خرچ وہ دیں۔پس یہ پس منظر ہے تحریک جدید کی آمد کا پیالے مشاورت کے اختتام پر حضور نے فرما یا :- اختتامی تقریر و چونکہ ایجنڈا ختم ہو گیا ہے اس لیے اب میں دعا کے ساتھ دوستوں کو رخصت کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو دعائیں کرنے اور قرآن کریم اور اسلام پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کا جو عہد آپ نے کیا ہے اس کے پورا کرنے کی آپ کو اور آپ کی اولاد کو ہمیشہ توفیق ملتی ر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ ملتا ہے خلقی طور پر ملتا ہے اصل میں یہ سب کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامال ہے انہی کے مال کی حفاظت کے لیے ہم لڑ ہے ہیں ورنہ ہمیں اپنی کسی عربیت کی ضرورت نہیں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح ہو جائے تو ہمیں دنیا کے تمام دکھ اٹھا نے منظور ہیں۔خواہش ہے تو صرف اتنی کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو۔پس یہ دعا کرتے جائیں اور واپس جا کہ کوشش کریں کہ جو بجٹ آپ نے منظور کیے ہیں وہ پورے بھی ہوں ہم میں کوشش کریں گے کہ میں طرح ہو سکے بجٹ کے اندر کام کریں لیکن آپ بھی کوشش کریں که آمد اتنی زیادہ ہو کہ آئندہ فراغت کے ساتھ ہم لوکل جماعت کی ضرورتوں کو بھی پورا کر سکیں مرکز کی ضرورتوں کو بھی پورا کر سکیں اور دنیا کو جو اسلام کی پیاسی ہے اس کی پیاس کو بھی سمجھا سکیں سیہ کے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۷ ء ملنا تا ۱۰۵ ک رپورٹ مجلس مشاورت منعقده رانه ۲۲/۲۱ ۲۳۰ مارچ ۱۱۹۵۷ صفحه ۱۷ / ۱۲۱