تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 458 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 458

سے پکڑ کہ جوتیوں میں لاکھڑا کیا جب مولوی صاحب نے دیکھا کہ میری ذلت ہوئی ہے باہر ہزاروں آدمی کھڑے ہیں اگر انہیں میری اس ذلت کا علم ہوا تو وہ کیا کہیں گے تو کمرہ عدالت سے باہر نکلے۔برآمدہ میں ایک کرسی پڑی تھی۔مولوی صاحب نے سمجھا کہ ذلت کو چھپانے کا بہترین موقع ہے جھٹ کرسی کھینچی اور اس بیٹھ گئے اور خیال کر لیا کہ لوگ کرسی پر بیٹھے دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ مجھے اندر بھی کرسی لی تھی۔چپراسی نے دیکھ لیا۔وہ ڈپٹی کمشنر صاحب کا انداز دیکھ چکا تھا اس نے مولوی محمد حسین صاحب کو کرسی پر لے دیکھ کر خیال کیا کہ اگر ڈپٹی کمشنر صاحب نے انہیں یہاں بیٹھا دیکھ لیا وہ مجھ پہ ناراض ہوں گے اس خیال کے آنے پر اس نے مولوی صاحب کو رہاں سے بھی اٹھا دیا۔اور کہا کہ کرسی خالی کر دیں۔چنانچہ بر آمدہ والی کرسی بھی چھوٹ گئی۔باہر آگئے۔تو لوگ چادریں بچھائے انتظار میں بیٹھے تھے کہ مقدمہ کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ایک چادر پر کچھ جگہ خالی دیکھی تو وہاں جا کر بیٹھ گئے یہ چادر میاں محمد بخش صاحب مرحوم بنا نوی کی تھی جو مولوی محمد حسین صاحب مربی سلسلہ کے والد تھے اور اس وقت غیر احمدی تھے بعد وہ احمدی ہو گئے۔انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب کو اپنی چادر پر بیٹھے دیکھا تو قصہ میں آگئے۔اور کہنے لگے۔میری چادر چھوڑ تو نے میری چادر پلید کر دی ہے تو مولوی ہو کہ عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے آیا ہے چنانچہ اس چادر سے بھی انہیں اٹھنا پڑا اور اس طرح ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا۔تو دیکھو یہ آیات بنیات ہیں۔کہ کس طرح خدا تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام کو ایک دشمن کے ہاتھوں سے برسی فرمایا۔پھر اس پہ ہی بس نہیں۔سر ڈگلس کو خدا تعالیٰ نے اور نشانات بھی دکھائے جو مرتے دم تک انہیں یادر ہے اور انہوں نے خود مجھ سے بھی بیان کیے۔۱۹۲۳ء میں جب میں انگلینڈ گیا تو انہوں نے یہ سارا قصہ مجھ سے بیان کیا۔سر ڈگلس کے ایک ہیڈ کلرک تھے جن کا نام غلام حیدر تھا وہ راولپنڈی کے رہنے والے تھے بعد میں وہ تحصیلدار ہو گئے تھے۔معلوم نہیں وہ اب زندہ ہیں یا نہیں اور زندہ ہیں تو کہاں ہیں۔پہلے وہ سرگودہا میں ہوتے تھے انہوں نے خود مجھے یہ قصہ سنایا اور کہا۔سب ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک دالا مقدمہ ہوا تو میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ہیڈ کلرک تھا۔جب عالت ختم ہوئی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا ہم فریبا گورداسپور جانا چاہتے ہیں تم ابھی جا کہ ہمارے لیے ریل کے کمرہ کا انتظام کرو۔چنانچہ میں مناسب انتظامات کرنے کے لیے ریلوے اسٹیش پر گیا۔میں اسٹیشن سے باہر نکل کہ بہ آمدہ میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سر ڈگلس سڑک پر ٹہل رہے