تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 457 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 457

جب آپ عدالت میں پہنچے تو وہی ڈپٹی کمشنر میں نے چند دن پہلے کہا تھا کہ شخص خداوند یسوع کی ہتک کر رہا ہے اس کوکوئی پکڑتا کیوں نہیں۔اس نے آپ کا بہت اعزاز کیا اور عدالت میں کرسی پیش کی اور کہا آپ بیٹھے بیٹھے میری بات کا جواب دیں۔اس مقدمہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی بطور گواہ مدعی کی طرف سے پیش ہوئے۔عدالت کے باہر ایک بڑا ہجوم تھا اور لوگ بڑے شوق سے مقدمہ سننے کے لیے آئے ہوئے تھے جب مولوی محمد حسین صاحب عدالت میں پہنچے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کرسی پر بیٹھے دیکھا تو انہیں آگ لگ گئی۔وہ سمجھتے تھے کہ میں جاؤنگا تو عدالت میں مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی اور بڑی ذلت کی حالت میں وہ پولیس کے قبضہ میں ہوں گے اب دیکھو یہ مقدمہ ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں پیش ہوا تھا اور مدعی بھی ایک انگر یز یا دری تھار ڈاکٹر مارٹن کلارک کے متعلق مشہور تھا کہ وہ انگریز ہے لیکن در حقیقت وہ کسی پٹھانی کی نسل میں سے تھا جس نے ایک انگریر سے شادی کی ہوئی تھی) اور مولوی محمد حسین صاحب جیسے مشہور عالم بطور گواہ پیش ہورہے تھے۔مگر پھر بھی دشمن ناکام و نامراد رہا اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا اعزانہ کیا گیا وہاں آپ کے مخالفین کو ذلت در موائی کا منہ دیکھنا پڑا۔مولوی محمد حسین صاحب نے جب دیکھا کہ آپ کو کرسی پیش کی گئی ہے تو انہوں نے کہا بڑی عجیب بات ہے کہ میں گواہ ہوں مگر مجھے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے اور مرزا صاحب ملزم ہیں مگر نہیں کر سی دی گئی ہے اور اس طرح ان کا اعزازہ کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر کو یہ بات بڑی لگی۔اس وقت انگریز مولویوں کو بہت ذلیل سمجھتے تھے۔وہ کہنے لگا۔ہماری مرضی ہے ہم جسے چاہیں کرسی پر بٹھائیں اور جسے چاہیں کرسی نہ دیں۔ان کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ ان کا خاندان کرسی نشین ہے اس لیے میں نے انہیں کرسی دی ہے۔تمہاری حیثیت کیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب کہنے لگے کہ میں اہل حدیث کا ایڈووکیٹ ہوں۔اور میں گورنر کے پاس جاتا ہوں تو رہ بھی مجھے کرسی دیتے ہیں۔ڈپٹی کمشتر کہنے لگا تو بڑا جاہل آدمی ہے۔ملنے جاتے اور گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہونے میں بہت فرق ہے۔ملنے کو تو کوئی چوڑھا بھی آئے تو ہم اس کو کرسی دیتے ہیں اور تو تو اس وقت عدالت میں پیش ہے اس پر بھی مولوی محمد حسین صاحب کو نسلی نہ ہوئی۔وہ کچھ آگے بڑھے اور کہنے لگے نہیں نہیں مجھے کرسی دینی چاہیئے۔ڈپٹی کمشنر کو غصہ آگیا اور اس نے کہا بک بک مت کہ مجھے بہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔چڑ سی و یکھتے ہیں ہی کر ڈپٹی کمتر صاحب کی نظر کی طرف ہے چپڑاسی نے جب پٹی کمشنر صاحبے الفاظ سنے تو اسی ولوی مد میں نا کو باند