تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 454 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 454

۴۳۹ جا سکتا کہ جب وہ ضلع گورداسپور کے ڈسٹرکٹ ٹھریٹ تھے اور جب عیسائی پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ کھڑا کیا۔تو باوجود اس کے کہ یہ مقدمہ ایک عیسائی پادری کی طرف سے تھا اور با وجود اس کے کہ یہ مقدمہ ایک ایسے شخص کے خلاف تھا جو عیسائیت کے مقابل پر کسر صلیب کا مشن لے کر میدان میں نکلا ہوا تھا۔اور جس کا لٹر پھر سیحریت اور دجالیت کے خلات بھرا پڑا ہے۔اور پھر با وجود اس کے کہ کرنل ڈگلس موصوف خود بھی ایک سجی تھے۔اور یہ ان کی جوانی اور جوش کا زمانہ تھا۔انہوں نے حق و صداقت کی خاطر انصاف سے کام لیا۔اور حقیقت کو پا جانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بری کرتے ہوئے عیسائی پادری کا دعوی خارج کر دیا۔جب بھی لندن میں کوئی احمدی دوست کرنل ڈگلس سے جا کہ ملا کرتے تھے تو کرنل موصوف از خود اس مقدمے کا ذکر شروع کر دیتے تھے۔اور جوش کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ میں نے مرزا صاحب کو دیکھ کر یہ یقین کر لیا تھا کہ یہ شخص جھوٹا نظر نہیں آتا۔اور ان کے خلاف نیاڈلی مقدمہ کھڑا کیا گیا ہے۔اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیمی عقاید کی شدید مخالفت کے باوجود کرنل ڈگلس کی اس منصفانہ فعل کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کی تعریف فرمائی اور کشتی نوحے میں تقریبہ فرمایا۔مدیہ پہلا طوس مسیح ابن مریم کے پیلاطوس کی نسبت زیادہ با اخلاق ثابت ہوا کیونکہ عدالت کا با پند رہا۔اور بالائی سفارشتوں کی اس نے کچھ بھی پرواہ نہ کی۔اور قومی اور مذہبی خیال نے بھی اس میں کچھ تغیر پیدا نہ کیا۔اور اس نے عدالت پر پورا قدم مارنے سے ایسا عمدہ نمونہ دکھایا کہ اگر اس کے وجود کو قوم کا فخر اور حکام کے لیے نمونہ سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔عدالت ایک مشکل امر ہے جب تک انسان تمام تعلقات سے علیحدہ ہو کہ عدالت کی کرنسی پر نہ بیٹھے تب تک اس فرم کو عمدہ طور پر ادا نہیں کر سکتا مگر ہم اس سچی گواہی کو ادا کرتے ہیں کہ اس پیلاطوس نے اس فرمن کو پورے طور پر ادا کیا اگر چہ پہلا پہلا طوس جو رومی تھا اس فرمن کو اچھے طور پر ادا نہیں کر سکا۔اور اس کی یہ دلی نے مسیح کو بڑی بڑی تکالیف کا نشانہ بنایا۔یہ فرق ہماری جماعت میں ہمیشہ تذکرہ کے لائق ہے جب له صفحه ۵۱ ۵۲ طبع اول مطبع ضیاء الاسلام قادیان - ۵ / اکتوبر ۶۱۹۰۲