تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 447
ماں باپ کا اپنے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے ماں باپ بعض دفعہ میز یا کوئی چیز اٹھانا چاہتے ہیں تو بچے کو کہتے ہیں تم بھی نیز اٹھاؤ اور وہ بھی پنا ہاتھ میز کے نیچے رکھ دیتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ میں کام کہ رہا ہوں۔اسی طرح ہمارے سب کام خدا کہ رہا ہے مگر بچے کی طرح ہم بھی ادنی اور حقیر قربانیاں کر کے خوش ہو جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم کام کر رہے ہیں۔حالانکہ ہم نہیں کر رہے ہمارا خدا سب کچھ کر رہا ہے۔لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس وقت میز اٹھائی جارہی ہوتی ہے تو یہ ہی خوش نہیں ہوتا ماں باپ بھی خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہمارے کام میں شریک ہے اس طرح جب تم خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو صرف تم ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ خدا بھی تمہارے کام پر خوش ہوتا ہے پس یقین رکھو کہ جب تک تم ان باتوں پر قائم رہو گے اور دین کے لیے قربانیاں کرتے چلے جاؤ گے کوئی شخص نما را بال بھی بینگا نہیں کر سکے گا۔اور اگر کوئی شخص تم پر حملہ کر تے کے لیے آگے بڑھے گا تو خدا کے فرشتے تمہارے دائیں بھی ہوں گے اور بائیں بھی ہوں گے جو کچھ مدینہ کے انصار نے بدر کے موقعہ پر کہا تھا ہ ہی خدا کے فرشتے تم سے کہیں گے میں طرح انہوں نے کہا تھا کہ یارسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور مجھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے اس طرح جبرئیل اور اس کے ساتھی تم سے کہیں گے کہ اسے خدا کے دین کی خدمت کرنے والو ہم تمہارے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن تمر تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔اور یہ ظاہر ہے کہ فرشتے کبھی مرنہیں سکتے اس لیے دیش بھی کبھی تم تک نہیں پہنچ سکتا صحابہ مرسکتے ہیں اور وہ دشمن کے حملہ سے غافل بھی ہو سکتے ہیں چنانچہ احمد کی جنگ میں دشمن ان کو نقصان پہنچاتے ہوئے آگے نکل آیا گھر تمہارے لیے دہ زمانہ نہیں آ سکتا۔تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کی گورنہ میں رہو گے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمہاری حفاظت کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا اور ترقی کرتا چلا جائیگا اور تمہاری طاقت اور عزت اور شہرت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ تم ساری دنیا میں پھیل جاؤ گے۔اور وہ لوگ جو آج تم پر اعتراض کرتے ہیں اور تمہیں حقیر اور ذلیل قرار دیتے ہیں وہ اس وقت جب کہ تم دنیا میں غالب ہو گے تم سے کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنی عزت اور شہرت