تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 448 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 448

میں سے کچھ معتہ دو۔اس وقت نہیں ذلیل لکھنے والا تہاری گدا گرمی کرے گا اور تم پر ظلم کرنے والا تمہارے رسم کا طالب ہوگا اور تمہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے والا تمہاری عزت کا اقرار کرے گا۔اور اپنے گذشتہ فعل پر شرمندہ اور نادم ہوگا۔یہ خدا کی تقدیر ہے جو پوری ہو کہ رہ ہے گی۔قضا نے آسمان است این بهر حالت شود پیدا پس خدا تعالی پر ایمان رکھو۔اور یقین رکھو تم دنیا پر غالب آنے والے ہو بے شک تم اس وقت کمز در ادرنا طاقت سمجھے جاتے ہو مگر وہ دن زیادہ دور نہیں کہ خدا کی رحمت نئی نئی شکلوں میں ظاہر ہوگی اور تمہیں اس کی قدرت کے وہ نمونے دکھائے گی جو تمہارے دہم اور گمان میں بھی نہیں ہیں۔بد قسمت ہے وہ انسان جو مایوس ہو جاتا اور مشکلات کے وقت ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے ایسا ہی انسان خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی حصہ نہیں پا سکتا اس کی رحمت سے حصہ پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالی کی مدد پر کامل یقین اور بھروسہ رکھے بے شک تمام کام خدا تعالی کی مدد سے ہی سر انجام پاتے ہیں مگر وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ کتنا صبر کرتا ہے پھر یکدم اس کی رحمت کے ایسے دروازے کھلتے ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ رحمتیں اور برکتیں تو میرے وہم اور گمان میں بھی نہیں تھیں۔پس اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور اس کی رحمتیں آرہی ہیں تم ان دونوں کا انتظامہ کہ وہ اللہ تعالیٰ تمہاری مصیبتوں کی رستیاں کاٹ ڈالے گا اور وہ چیزیں جن کو تم حاصل نہیں کر سکتے ان کو خدا آپ تمہارے لیے مہیا کہ دے گا میں یہ نہیں کہتا کہ ابھی ایسا ہو جائے گا۔یا ایک گھنٹہ کے بعد یا ایک دن کے بعد یا ایک ہفتہ کے بعد یا دو ہفتہ کے بعد یا ایک مہینہ کے بعد یا دو مہینہ کے بعد ایسا ہو جائے گا مگر ئیں یہ کہ سکتا ہوں کہ آسمان مل سکتا ہے۔زمین مل سکتی ہے۔سورج مل سکتا ہے۔ستارے مل سکتے ہیں دنیا، دھر سے اُدھر ہوسکتی ہے مگر خدا کا یہ وعدہ کبھی نہیں مل سکتا کہ وہ تمہیں ایسی برکتیں دے گا اور تم پر اپنے ایسے انعام نازل کرے گا کہ دشمن سے دشمن بھی یہ اقرار کرنے پر میور ہوگا کہ تم یک مبارک وجود ہو" ت ۱۲۴ فروری کو حضور نے بیج لگثری ہوٹل میں جماعت کراچی کی استقبالیہ دعوت میں شرکت کی ه روزنامه الفضل در ماریا ۱۹۵۷ و ص ۵۰۴۰