تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 446
ایک لیکچر یوم مصلح موعود کی تقریب میں احمدیہ ہال میں دوسرا بیج لگثری ہوٹل میں تیسرا مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے اجلاس میں۔اور جو متھا ماڑی پور میں دیا۔یوم مصلح موعود کی تقریب په ۲۰ فروری ۱۹۵۷ دکو سو اسات بجے شام احمد یہ ہال میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں مقامی جماعت کے علاوہ سینکڑوں غیر احمدی معززین نے شرکت کی۔حضرت مصلح موعود نے اپنی بصیرت افروز تقریہ میں اس امر پہ خاص طور پہ نہ در دیا۔کہ اگر احمدی خدا تعالی کی زور مدد پر کامل یقین اور بھروسہ رکھیں گے تو اُس کے فرشتے اُن کی مدد کریں گے۔اور انہیں غیر معمولی برکتیں عطا ہوں گی چنانچہ فرمایا : - وہ یہی چاہتا ہے کہ میری عظمت اور میری توحید اور میری تفرید دنیا میں قائم ہو اور اس غرض کو پورا کرنے کے لیے سوائے جماعت احمدیہ کے دنیا میں کوئی جماعت کام نہیں کر رہی لوگوں کے پاس مال بھی ہے ان کے پاس طاقت بھی ہے اُن کے پاس ذرائع اور اسباب بھی ہیں ان کے پاس حکومت بھی ہے لیکن کوئی نہیں جو خدا کے نام کو بلند کر رہا ہو اور اس کے دین کی اشاعت کے لیے کوشش کر رہا ہو۔صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جیس کے افراد غریب ہوتے ہوئے کنگال ہوتے ہوئے مز در اور نا طاقت ہوتے ہوئے جو کچھ بچتا ہے خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے دے دیتے ہیں یہاں تک کہ اپنے بچوں کے بچے ہوئے ٹکڑے بھی وہ خدا تعالیٰ کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں اگر کمز در اور نا طاقت اور غریب اور کنگال ہوتے ہوئے وہ خدا کے لیے ایسی قربانی کرتے ہیں تو کیا خدا ہی نعوذ باللہ ایسا بے غیرت ہے جو انہیں ذلت میں چھوڑ کر اپنے عرش پر جا بیٹھے گا۔کیا کسی انسان کے عقل میں یہ بات آ سکتی ہے کہ خدا بے غیرت ہو۔جس طرح یہ بات کسی انسانی عقل میں نہیں سکتی کہ خدا بے غیرت ہو اسی طرح یہ بھی کسی انسانی عقل میں نہیں آسکتا کہ دین کی خدمت کرنے والے لوگوں کو چھوڑ کر دہ آسمان پر چلا جائے گا اور وہ اس وقت تک آسمان پہ نہیں جائے گا جب تک وہ ان کو سخت پہ نہ بٹھا دے۔۔حب ده دقت آئے گا کہ احمدیت دنیا میں چاروں طرف پھیل جائے گی۔۔۔۔۔۔۔اور اس وقت ممکن ہے کہ خدا ہے کہ ہند روز تم بھی کھیل کھیل لو لیکن جب تک دہ وقت نہیں آتا اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ رہے گا اور وہ تمہیں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں چھوڑے گا۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایسا ہی سلوک ہے جیسا