تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 443
۴۲۸ حضور 9 فروری ۱۹۵۷ء کو صبح نو بجے ربوہ سے بذریعہ کار لاہور تشریف لے گئے حضور کا پروگرام تیز گام کے ذریعے سفر کرنے کا تھا۔حضرت سیدہ ام معین صاحبه سیده امستر النصير صاحبه، سیده امنه الباسط صاحبہ ، سیدہ امته الجمیل صاحبہ - صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب اور محرم پیر معین الدین منا بھی حضور کے ہمرکاب تھے۔لاہور میں حضور نے صاحبزادہ مرزا منظفر احمد صاحب کی کو بھٹی پر تھوڑی دیر قیام فرمایا۔گاڑی نے تین بجگہ پچپن منٹ پر سود نہ ہونا تھا۔حضور گاڑی کی روانگی سے تھوڑی دیر قبل اسٹیشن پر تشریف لے آئے۔جماعت احمدیہ لاہور کے مخلص احباب بھی کثیر تعداد سٹیشن پر الواع کہتے کے لیے موجود تھے۔راستہ میں اوکاڑہ۔منٹگمری (ساہیوال) اور خانیوال کے سٹیشنوں پر جماعت کے بہت سے دوست تشریف لائے ہوئے تھے۔جنہیں حضور نے شرف مصافحہ بخشا۔منٹگمری کے اسٹیشن پر مکرم چوہدری محمد شریف صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ مشگیری نے حضور اور حضور کے تمام خدام کے لیے رات کا کھانا پیش کی۔جو ہم اللہ احسن الجزاء - ار فروری ساڑھے آٹھ بجے صبح گاڑی حیدر آباد پہنچی۔جہاں جماعت احمدیہ حیدر آباد اور ان کے ڈویژنل امیر ڈاکٹر احمد دین صاحب کے علاوہ کراچی سے کریم چوہدری عبد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی معہ دیگر مخلصین جماعت اور کرم چوہدری عزیز احمد صاحب معہ احباب ظفر آباد سے اور مکرم سید داؤد مظفر شاہ صاحب ناصر آباد سے تشریف لائے ہوئے تھے۔اس موقع پر جماعت احمدیہ حیدر آباد نے ناشتہ پیش کیا۔اور حضور بذریعہ جیپ کار بشیر آباد تشریف لے گئے۔قافلہ کا کچھ حصہ سید داؤد مظفر شاہ صاحب کے ساتھ ناصر آباد روانہ ہو گیا۔بشیر آباد کے کثیر احساب حضور کے استقبال کے لیے اسٹیٹ میں موجود تھے۔مکرم چو بادی عزیز احمد صاحب معہ احباب ظفر آباد بھی سارا وقت موجود رہے دوپہر کا کھانا جماعت کی طرف سے پیش کیا گیا۔رات حضور نے کنال ریسٹ ہاؤس میں ہی قیام فرمایا۔دوسرے دن دہاں سے ناصر آباد کے لیے روانہ ہوئے۔بشیر آباد سے حضور معہ اہل بیعت بذریعہ جیپ کار ۱۱ فروری کو چار بجے دو پر روانہ ہوئے۔ساستہ میں حضور نے میر پور خاص میں ایک رات قیام فرمایا۔اس قیام کے دوران میں مکرم ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب صدیقی نے اس مبارک قافلہ کی خدمت کا شرف حاصل كيا اور دعوتِ طعام کی ۱۲۰؍ فروری ساڑھے نو بجے صبح میر پور خاص سے بذریعہ ٹرین ناصر آباد