تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 442
۴۲۷ نے مجھے یقین دلایا ہے کہ بہت سے لڑ کے دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔بعض لوگ سلسلہ کی آمد کو دیکھتے ہوئے یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید سلسلہ زیادہ واقفین کے اخراجات برداشت نہ کر سکے۔لیکن یہ ہرگز صحیح نہیں ہے۔در حقیقت دین کو ابھی لاکھوں واقفین - زندگی کی ضرورت ہے۔باقی رہے ان کے اخراجات سو یہ اخراجات نہ قوم دے گیا اور نہ ملک اور حکومت بلکہ خدا خود مہیا کرے گا۔ایسی جگہوں سے مہیا کرے گا جس کا تم گمان بھی نہیں کر سکتے ہماری عمر میر کا یہ تجربہ ہے کہ اگر انسان خدا کا ہو جائے اور مجھے معنوں میں اس پر توکل کرے تو وہ آپ کی ساری ضروریات کا کفیل ہو جاتا ہے اور ہر موقعہ پر اس کی غیب سے اس کی مدد اور نفرت کے سامان مہیا فرما دیتا ہے - اس ضمن میں حضور نے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے اور خود اپنی زندگی کے متعدد واقعات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کبھی مت خیال کرو کہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو حضرت مسیح کے قول کے مطابق خدا تمہارے لیے آسمان سے اتارے گا۔اور زمین سے لگائے گا۔پس تم اخراجات اور تنخواہوں کا خیال نہ کردے۔بلکہ خدا پر توکل کرتے ہوئے اپنے آپ کو دین کے کی قدرت کے لیے لگا دو اور تبلیغ دین کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جاؤ۔پھر جماعت ہوں جوں بڑھے گی تمہارے گزارے بھی بڑہیں گے۔مگر نیت کبھی یہ نہ کرو کہ تمہارے گزارے بڑھیں نیست ہمیشہ ہی رکھو کہ تم نے تنخواہوں در گزاروں کا خیال کیسے بغیر معنی خدا کے لیے کام کرنا ہے۔پھر تم خود مشاہدہ کرو گے کہ کس طرح خدا تمہاری مدد کرتا ہے لیے حضرت خلیفة أسبح الثاني المصلح الموعود قريباً ہر سال نا حضرت مصلح موعود کا سفر سندھ اراضی کے معائنے کے لیے سندھ تشریف لے جایا کرتے تھے۔مگر ۱۹۵۴ء کے حملہ اور ۱۹۵۵ ء کی علالت کے باعث حضور تقریبا تین سال تک سندھ نہ جا سکے۔اس سال کے شروع میں حضور نے سفر سندھ اختیار کر کے ہزاروں بے تاب دلوں کوسرت و شادمانی سے ہمکنار فرمایا۔راه روزنامه الفضل ربوه ۹ر فروری ۱۹۵۷ء صفحه ما