تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 437
۴۲۲ کیا اور خطبات جمعہ ، تقاریر ملہوں کے ذریعہ جماعت کی تربیت فرمائی دس ہزار سے زا مدل زیر تقسیم کا گیا اور چھینیں مقامات پر جلسے منعقد کیے گئے یہ اس تبلیغی دورہ کا چرچا جنوبی ہند کے پریس میں بھی ہوا۔چنانچہ اخبار انگارے حیدر آباد نے لکھا :۔فروری آج ساڑھے چار بجے بلڈنگی سکندر آباد میں محترم حضرت صاحبزادہ مرزا دیم احمد صاب فرنه اند امام جماعت احمدیہ کے اعزاز میں جماعت ہائے احمدیہ حیدر آباد دسکندرآباد کی طرف سے بوت عصرانہ ترتیب دی گئی تھی۔دعوت میں کثیر تعداد میں شہر حید ر ابا دا دور سکندر آباد کے معززین نے شرکت کی جس میں نواب اکبر یار جنگ بہادر، نواب ناظر یار جنگ، بهادر ، مولوی مرتضی خان صاحب خانصاحب دوست محمد علا والدین ہیٹھ نور محمد علاء الدین صاحب مردار فضل حق خال صاحب اور دیگر مذاہب کے معززین نے شرکت کی جس میں جماعت احمدیہ کی جانب سے پیش کیے ہوئے سپاسنامے کا جواب دیتے ہوئے صاحبزادہ صاحب موصوت نے فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السّلام کا معروف قول ہے کہ درخت اپنے پھیل سے پہچانا جاتا ہے۔ایڈریس میں جو نسبت بانی جماعت حمدیہ سے بیان کی گئی ہے اس خصوص سے ہم جائزہ لے سکتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو آپ نے کس کام پر لگایا۔آپ قا دیان کی گمنام بستی میں پیدا ہوئے۔آپ کے دل میں اسلام اور قرآن کا در دو تھا۔اسی اشاعت اسلام کے کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو معبوث فرمایا اور اکنان عالم میں آپ کے مشن کے ذریعہ اس تعلیم کو پہنچا دیا۔آج غیر اقوام کے لوگ معترف ہیں کہ تبلیغ اسلام اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت کے کام میں جماعت احمدیہ کی برایم می کرنے والی کوئی جماعت نہیں ہے۔مزید آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے بانی جماعت احمدیہ سے اپنے وعدوں کے مطابق سلوک فرمایا۔یعنی اس کا وعدہ تھا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دوں گا۔اور میں تجھے برکت پر برکت دونگا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے بر کتنے ڈھونڈیں گے" چنانچہ ان وعدوں کے مطابق آج آپ کی جماعت اشاعت احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں سرگرم عمل ہے۔اور بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ میں درخت کا یہ شہرہ ہے وہ کیسا شاندار ہے آپ نے را تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ا ختیار بدر قادیان در فروری تا ۲ رمئی ۱۹۵۷ء