تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 428 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 428

۴۱۳ مجھے یاد ہے اور آج صبح بھی میں نے بذریعہ ٹیلیفون انہیں اطلاع کی مگر انہوں نے وعدہ پورا نہ کیا افسوس ہے پھرا انہوں نے کہا نائب مفتی تو آن عبد الجلیل حسن کو بلا جائے۔چنانچہ وہ آ گئے اور ہم پانچ چھ آدمی اکٹھے دفتر میں بیٹھ گئے اور آپس میں بات چیت شروع ہو گئی اور کہا جا سکتا ہے کہ قریبا ہے رتین چوتھائی) وقت میں نے لے لیا۔ہر ۱۲ بجے محترم اونکو صاحب کہنے لگے کہ آئی گھر چلیں کیونکہ ہم سب کیلئے کھانا تیار ہے۔اس پر ہم سب آپ کے ساتھ ہو لیے۔گھر پہنچ کر کھانا کھایا اور پھر گفتگو شروع ہوئی میں نے نائب مفتی صاحب سے باربار کہا کہ اگر میری کسی بات پر آپ کو کوئی اعتراض ہو تو ابھی میرے سامنے پیش کر دیں ایسانہ ہو کہ میں چلا جاؤں تو اس کے بعد اونکو صا حب سے کہیں کہ یہ بات غلط ہے اور دہ بات غلط ہے۔اونکو صاحب محترم نے میری تائید فرمائی مگر نائب مفتی صاحب آخر وقت تک خاموش رہے اس پر دوسرے لوگ تو چلے گئے مگر ہیں اور اونکو صاحب رہ گئے اونکو صاحب نے مجھے کہا کہ آج سے آپ مجھے احمدی سمجھیں اور خدمت اسلام کے لیے ۲۰ ڈالر یعنی ۳۰/۰ روپے ماہوار جماعت کو دیتار ہونگا۔پھر مرحوم نے میری امامت میں نماز ظہر اور عصر ادا کی میں نے اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے الحمد للہ علی ذالکٹ کہا اور ان کے لیے اور زیادہ دعا شروع کر دی۔گو محترم اونکو صاحب نے یہ تو کہدیا کہ مجھے احمدی سمجھا جائے۔مجھے ڈر پیدا ہوا کہ ممکن ہے که اگر اونکو صاحب کو بیعت کے لیے کہا جائے تو وہ بیعت کرنے سے انکار کر دیں اس لیے ان کے لیے خود بھی دعا کرتا رہا اور سید نا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھی دعا کی درخواست کی۔حضور پر نور نے خود بھی ان کے لیے دعا کی اور دوسرے بزرگوں کو بھی دعا کے لیے تحریک فرمائی۔پھر میں نے اونکو صاحب محترم سے کہا کہ آپ استخارہ کر لیں تاکہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اطلاع مل جائے۔چنانچہ انہوں نے استخارہ کیا اور ایک دن مجھے ٹیلیفون پر فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ وہ سجدے سجد سے میں ہیں اور ان پر بارش کے چھینٹے پڑ رہے ہیں۔ان دنوں خوابوں کی وجہ سے انہیں یقین ہو گیا کہ احمدیت سچا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام مدا کے سچے مامور میں چونکہ انہیں ہر طرح اطمینان اور نسلی ہو چکی ملی اور انہیں احمدیت کی سچائی سے متعلق یقین ہو چکا تھا اس لیے ۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو انہوں نے فارم بیعت پڑ کر دیئے۔آپ پہلے ۱۴ برس تک مجسٹریٹ رہے پھر محکمہ شرعیہ ریاست جو ہور کے ہیڈ آفیسر)